بے طلب راستوں نے خطایا بہت دنیا کے حادثوں نے ڈرایا بہت پر نہ تھے اور میں صحرا میں آ گیا جلتے صحرا بدن کو جلایا بہت قلعہ رمال کا مت بنانا یہاں سوچنا صحرا نے ہی سکھایا بہت چلتے…
اک رمز دباۓ رکھتے ہیں اک جوت جلاۓ رکھتے ہیں سب دل ملاتے رہتے ہیں ہم درد بھلاۓ رکھتے ہیں دلِ رنجور اس کی خاطر ہم غیر سے بناۓ رکھتے ہیں تم لوٹ آؤ شاید افری نگہ درپہ جماۓ رکھتے…