“بے خودی اچھی، خودی اچھی نہیں”
گر بڑھے حد سے، رہی اچھی نہیں
جو گھڑی سچ سے ہٹا دے آدمی
ایسی کوئی بھی گھڑی اچھی نہیں
ایسی کوئی بھی ہنسی اچھی نہیں
ہے اگر سود و زیاں کا نام عشق
ایسی رسمِ دلبری اچھی نہیں
جو نہ رکھے قلب روشن فکر سے
ایسی تاریک آگہی اچھی نہیں
ہے سکوں دل کو اگر سجدے میں ملے
ورنہ دنیا کی خوشی اچھی نہیں
بیٹھ رہنا دم بخود کونے میں ہی
تیری عادت افری جی اچھی نہیں
افری
![]()

