Kheyal Darya

A mound of thoughts

URDU

زندگی کا فلسفہ

اور معاشرتی تبدیلی(انقلاب آنے کی وجوہات)

قسط 9 /43

پچھلے کچھ دنوں سے اس موضوع پر لٹریچر کا مسلسل مطالعہ کر رہا ہوں جس میں دُنیا بھر سے بشمول مسلمان و مغربی تقریبا پچھتر فلاسفرز اور اہل دانش کو سامنے رکھا ہے ۔

یہ سب انسانیت کےلئے پیش آمدہ کست و بشت کو سلجھانے میں اپنی عمریں کھپاتے رہے۔

میرا اولین مقصد اپنی، انفرادی، اجتماعی ، وطن اور امت کی صحت و حالت پر غور کرنے، مشکلات کی وجوہات سمجھنے اور اصلاح کے ساتھ باخبر ہونا ہے۔

یقین کریں اس جاری مطالعہ اور وطن عزیز اور ملت اسلامیہ کی جو تصویر ذہن کے قرطاس پر ابھرتی ہے اس سے

سَكَنَتْ فِي قَلْبِي السَّوْدَاءُ

مطلب ہے کہ میرے دل میں غم و اداسی نے جگہ لے لی۔ خیر چلیں آگے بڑھتے ہیں۔

مشھور فرانسیسی سماجی ماہر ایمیل ڈرکھیئم (Émile Durkheim) نے معاشرتی تبدیلی اور انقلاب کے اسباب کو سمجھنے کے لیے اپنے نظریات میں معاشرتی ڈھانچوں اور ان کے استحکام یا بگاڑ پر توجہ دی۔

اس کے خیالات زیادہ تر معاشرتی یکجہتی (social solidarity)، سماجی اصولوں (social norms)، اور توازن کے بگاڑ (anomie) کے گرد گھومتے ہیں۔ اس نے انقلاب اور معاشرتی تبدیلی کے اسباب کو درج ذیل نکات کی روشنی میں بیان کیا:

1. انومیہ (Anomie) کا تصور پیش کیا کس سے مراد وہ حالت ہے جب معاشرہ اپنے اصولوں، اقدار، اور قوانین کی پابندی کو کھو دیتا ہے، اور افراد میں الجھن یا انتشار پیدا ہوتا ہے۔

اس نے بتایا کہ اگر معاشرتی اصول اور روایات غیر واضح یا غیر موثر ہو جائیں تو معاشرے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، جو انقلاب کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مثلاً فرانسیسی صنعتی انقلاب کے دوران روایتی اقدار کے زوال نے معاشرتی انتشار کو جنم دیا۔

2. معاشرتی یکجہتی کی تبدیلی کی وجوہات میں:

میکانکی یکجہتی: روایتی اور قبائلی معاشروں میں، لوگ مشترکہ عقائد اور روایات کی بنیاد پر جڑے ہوتے ہیں۔

اس کو اگر غور سے دیکھیں تو لاالہ الااللہ کے بعد بھی ہم مختلف طبقاتی، لسانی، صوبائی ، حسب نسبی اور جانے کیسے کیسے تقسیم ہوۓ بیٹھے ہیں ۔

عضویاتی یکجہتی: جدید معاشروں میں، افراد مختلف کاموں اور کرداروں کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں۔

جب ایک معاشرہ میکانکی یکجہتی سے عضویاتی یکجہتی کی طرف بڑھتا ہے، تو پرانے نظام کے ٹوٹنے اور نئے نظام کے قیام کے دوران تنازعات اور انقلاب پیدا ہو سکتے ہیں۔

3. سماجی تقسیمِ کار (Division of Labor) یعنی کام کی تقسیم برابر نہ ہو تو بھی جیسے جیسے معاشرہ ترقی کرتا ہے، کاموں کی تقسیم زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے، اور افراد کے کردار الگ الگ ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں اگر کام کی تقسیم غیر منصفانہ ہو یا مختلف طبقات کے درمیان مساوات نہ ہو، تو طبقاتی کشمکش اور انقلاب کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اپنے وطن کی صورت حال آپ کے سامنے ہیں ہر جگہ ملصوص مافیاز قابض ہیں۔

4. اخلاقیات اور اقدار کا بگاڑ جب بڑھتا تو قدیم نظام کا زوال پذیر ہونے لگتا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ اگر ایک معاشرہ روایتی اقدار کھو دیتا ہے اور نئے نظام (جدید معاشی، معاشرتی اور مواصلاتی زرائع) میں واضح اخلاقی بنیادیں فراہم نہیں کی جاتیں تو یہ افراد اور گروہوں کے درمیان تنازعات کا باعث بنتا ہے۔

اقدار کے بگاڑ کی حالت میں، لوگ مروجہ نظام کو رد کر دیتے ہیں اور نئے نظام کی تلاش میں انقلاب کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ وطن عزیز شاید آج کل اسی حالت سے دوچار ہے۔

5. معاشرتی اداروں کی ناکامی جس میں خاندانی، مذہبی، اور معاشی ادارے شامل ہیں۔ اگر یہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائیں، تو معاشرے میں بحران پیدا ہوتا ہے۔ اس کی شکل بھی ہم روز بروز مجرمانہ خاموشی کی صورت دیکھ رہے ہیں۔

لوگوں کا موجودہ اداروں پر جب اعتماد ختم ہو جاتا ہے، زرا اپنی ہاں اداروں کا رویہ دیکھیں تو ایسے میں لوگ ان کی جگہ نئے ادارے لانے کی کوشش کرتے ہیں، جو انقلاب کا سبب بن سکتا ہے۔

6. اجتماعی شعور (Collective Conscience) کی کمزوری بھی ایک بڑی وجہ بنتی ہے کیونکہ معاشرتی یکجہتی کے لیے مشترکہ عقائد اور اقدار ضروری ہیں۔

اگر اجتماعی شعور کمزور ہو جائے، تو معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ زرا غور کریں تو ہمارے نام نہاد راہنماؤں کے پاس مسائل کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔

اجتماعی شعور کے بگاڑ ، احساسِ کمتری، عدم تحفظ اور عدم انصاف کی وجہ سے بھی سے معاشرتی تبدیلی اور نظام کے خلاف بغاوت کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔

7. صنعتی انقلاب کے نتیجے میں معاشی تبدیلی آنے سے طبقاتی تقسیم اور عدم مساوات میں اضافہ ہوا۔

اقتصادی ناانصافی، غریب اور امیر کے درمیان فرق، اور محنت کش طبقے کے استحصال نے سماجی بغاوتوں اور انقلابات کو جنم دیا۔

گویا ایمیل ڈرکھیئم کے مطابق، معاشرتی تبدیلی اور انقلاب کی وجوہات زیادہ تر ان عوامل پر مبنی ہیں جو معاشرتی استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں:

1. اصولوں اور اقدار کا بگاڑ (Anomie)۔

2. پرانے نظام اور اقدار کا زوال۔

3. سماجی اداروں کی ناکامی۔

4. طبقاتی تنازع اور معاشی ناانصافی۔

5. جدیدیت کے اثرات اور معاشرتی یکجہتی کا خاتمہ۔

اس کے نظریات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ معاشرتی استحکام کے لیے توازن اور واضح اقدار کا ہونا ضروری ہے، ورنہ انقلاب کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

شکریہ۔۔۔۔

دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ – الامارات

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *