Kheyal Darya

A mound of thoughts

URDU

زندگی کا فلسفہ اور ریسٹورینٹ(تمثیل)

قسط 50/1

زندگی واقعی ایک ریسٹورینٹ کی طرح ہے، جہاں ہر شخص اپنی حیثیت، ذائقے، اور ضرورت کے مطابق آرڈر دیتا ہے۔ مگر یہ ریسٹورینٹ صرف کھانے کے انتخاب تک محدود نہیں۔ یہ ہمیں انسانی فطرت، حالات، اور معاشرتی رویوں کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے، جہاں ہر کردار اپنی کہانی کے ساتھ آتا ہے، اپنا نقش چھوڑتا ہے اور چلا جاتا ہے۔

زندگی کا معاملہ سعیلہ گاؤں کے شخص نے فاتحہ پر بیٹھے ہم لوگوں کو بتایا ، وہ شہر کے ایک شاندار ریسٹورینٹ میں کام کرتا تھا، اس میں ہر آنے والا اپنی استعطاعت کے مطابق آرڈر کرتا باوجود اس کے کہ وہاں بہت قسم کے کھانے دستیاب ہوتے تھے۔

اس نے جو بات بتائی اس میں دل کو کچھ چھُو جانے والے پہلو سمجھنے کی ضرورت ہے!

وہاں کھانا کھاتے لوگوں کی حیثیت اور مالیات کچھ مختلف ہو تی ، وہاں ہر کھانا کھانے والے کو کھانا اپنی صحت اور ضرورت کے مطابق کھانا چاہے ہوتا۔

میں کہا کرتا ہوں کہ بھوک لگی ہو تو کھانوں کی خشبوئیں نہیں دیکھیں جاتی پیٹ میں بجتے ڈھول سُنے جاتے ہیں۔

اب تو خود بھی تجربہ کر لیا ورنہ اسلم نے بتایا کہ بڑے بڑے لوگ آ کر بہت قیمتی اور اعلی کھانوں کا آرڈر دیتے ہیں مگر کسی کو نمک، کسی کو شکر ، کسی کو گوشت اور کسی کو ڈاکٹر نے فلاں فلاں کھانے سے منع کیا ہوتا، ، ہنس کر مزید بتانے لگا کہ انہوں نے آرڈر زیادہ تر اپنے بِل بنانے یا اسٹیٹس دیکھانے کی خاطر کرنا ہوتا ہے لیکن وہ سب کھانا بعد میں وہاں کام کرنے والے یا ان کے گھر والے کھاتے۔

کسی کا کیا پتہ کہ پیسہ سے اس کے پاس کہاں سے آیا ؟

جہلم شہر کا ایک تاجر بتانے لگا کہ انگلینڈ سے آئی کوئی عورت میرپور سے اس سے زنانہ سوٹ خریدنے آئی۔ باہر ڈرائیور نے جیپ پارک کی اور داخل ہوتے ہی کہنے لگی کہ اسے پچاس سوٹ فلاں فلاں اقسام کے کپڑے میَں چاہئے! کہنے لگا میں نے جو مارکیٹ دام تھے وہی آصلی دام ہی بتاۓ لیکن وہ عورت اِس سے اچھا ، اُس سے اچھا دیکھانے کا اصرار کر رہی تھی۔ پھر اُس دوکاندار نے اسے دوسری طرف لگے اسی طرح کے تھان چار گنا زیادہ قیمت پر بتاۓ تو اس نے سارے خرید لئے! پھر اس نے رات دوستوں کو کھانے کی دعوت دے دی۔

ایک جیب تراش کا واقعہ پڑھا تھا جس نے عید سے چند دن پہلے کسی شخص کی جیب مار لی۔ اس کے ساتھ دو چھوٹے بچے تھے۔ لاہور کی یہ گہما گہمی والی شام، سائیکلوں کے بازار کی چمکتی روشنیاں ، بچوں کی آنکھوں میں خوشی کے دیے جل رہے تھے، جیسے آج ان کی کوئی بڑی خواہش پوری ہونے والی ہو۔ دکان میں گھومتے، ایک سائیکل کو ٹٹولتے، اور خوشی سے قہقہے لگاتے وہ ایک سائیکل پسند کرنے لگے تھے۔

جس جیب تراش نے جیب ماری تھی وہ سامنے ہی ایک فرؤٹ چاٹ کے ٹھیلے پر جا کھڑا ہوا لیکن اس بندے کو بچوں کے ساتھ اس دُکان میں داخل ہوتے ہوۓ مسلسل دیکھ رہا تھا، بچے جوش میں تھے جس سائیکل کو بچوں نے پسند کیا، ٹیسٹ کیا لیکن پیسے دینے

کے لئے جیسے ہی باپ نے جیب میں ہاتھ ڈالا، اس کی دنیا اندھیری ہو گئی۔ جیب خالی تھی۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا، بچوں کو بہلانے کی کوشش کی، اور دکاندار سے کچھ کہہ کر باہر نکل آیا۔ مگر اس کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ چند قدم چلنے کے بعد وہ ایک بینچ پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ بچوں کی خوشی اب اداسی میں بدل چکی تھی۔

جیب تراش نے بیان کیا کہ اگلا فروٹ چاٹ کا چمچ اس کے حلق سے نیچے نہ اترا۔ اس نے بٹواہ کھولا تو اس میں بمشکل پانچ ہزار روپے تھے۔

یہ جلدی سے اس پریشان حال باپ بچوں کے پاس پہنچ کر رُک گیا۔ ان سے پوچھا کیا ماجرا ہوا تو جوان مرد نے روہانی سی آواز میں کہا بٹواہ کہیں گر گیا تھا اب سمجھ نہیں آ رہی مہینوں سے بچوں کو وعدہ کر رکھا تھا ، لیکن اس میں پوری تنخواہ بھی تھی جس سے عید اور گھر کو چلانا تھا۔ لیکن سمجھ نہیں آ رہی اب گزارہ کیسے ہو گا۔

اچانک، جیسے اس کا ضمیر جاگ اٹھا۔ اس نے اُسے نرم آواز میں کہا، “بھائی صاحب، یہ بٹوا مجھے سڑک پر ملا۔ کہیں یہ آپ کا تو نہیں؟”

اس نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوۓ بٹواہ تھمایا تو بندے اور بچوں کی خوشی دیدنی تھی۔ باپ نے لرزتے ہاتھوں سے بٹوا لیا، اس کی آنکھوں میں بے پناہ خوشی اور شکرگزاری تھی۔ “یہ میرا ہے! اللہ تمہیں خوش رکھے، بھائی!” اس نے کہا اور فوراً بچوں کے ساتھ سائیکل کی دکان کی طرف لوٹ گیا۔

جیب تراش اب ان کے پیچھے تھا۔ اس نے دکاندار سے بات کی اور کچھ رقم عید کا تحفہ سمجھ کر اپنی جیب سے ادا کر دی۔ بچوں نے خوشی سے ایک کی بجاۓ دو سائیکلیں تھام لیں اور باپ کے ساتھ بازار سے نکل گئے۔

ان کی مسرتیں دیکھ کر جیب تراش کے دل میں ایک عجیب سکون اترا، جیسے اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا گناہ دھو دیا ہو۔ ان کے جانے کے بعد وہ سیدھا مسجد گیا نوافل پڑھ کر اللہ سے معافی مانگ کر اپنی محنت مزدوری کرنے لگا۔ اس انٹرویو میں اس نے بتایا خوشیاں اور دُکھ کس قدر سانجھے اور متاثر کُن ہوتے ہیں۔

اگرچہ یہ بات ابھی جاری ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ زندگی کا ریسٹورینٹ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر شخص اپنی زندگی کے ذائقے چکھ رہا ہے، مگر حقیقی خوشبو اپنی کمائی، حیثیت اور ان اعمال کی ہوتی ہے جو ہم دوسروں کے لیے کرتے ہیں۔ خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے، اور ضمیر کی بیداری ہمیں اصل انسانیت کا راستہ دکھاتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔

شکریہ۔۔۔۔۔۔

دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ ۔ الامارات

7/2/2025

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *