ماں نے مجھے بولنا سکھایا تھا
پھر چلنا، اور زمین پر پہلا حرف لکھنا۔
میں نے وہ حرف اٹھایا،
لفظوں میں پرویا، اور بولتا گیا۔
پردیس کی راہوں میں،
میں رکا نہیں، دوڑتا رہا۔
تختیاں لکھتا رہا،
اور جب پڑھنا آیا،
کتابوں میں کھو گیا۔
قرطاس سے دل لگا بیٹھا،
کہانیاں بس لکھتا رہا۔
مگر ہر کہانی کے انجام پر،
ایک تڑپ باقی رہی،
ایک کسک دل میں جاگی۔
کہانی کے کردار،
خاموش لبوں سے پوچھتے:
“تم کب کہیں جا کے رکو گے؟
تم اپنی کہانی کب لکھو گے؟”
میں ہنس کر ٹال دیتا،
“اپنی کہانی بھی کوئی لکھتا ہے؟”
شاید میرے بعد، کوئی دیوانہ،
میری تحریریں پڑھ کر،
دیوانگی میں،
اکیلے بیٹھ کر،
مجھ پر کہانی لکھے گا۔
(اِفری)
7/2/2025
![]()
