Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem نظم

غُلام بَسْتی میں آزادی کا خواب 2

غُلام بَسْتی میں آزادی کا خواب

مَیں نے ایک بَسْتی دیکھی 
جہاں اِنسانوں کی رِیڑھ کی ہَڈی
خَوف کی مِٹّی سے بَنائی جاتی ہے،
جہاں سوچنے کے لیے اِجازَت
اور بولنے کے لیے سَر جُھکانا شَرْط ہے!

وہاں نِیند…
حاکِم کی مَرْضی سے آتی ہے،
اور خواب…
مَحکُوم کی آنکھ میں نہیں،
سَرکاری خَاکوں میں بَنتے ہیں۔

مَیں نے دیکھا 
چِراغ صِرْف وُہی جَلتا ہے
جِسے بادشاہ جَلتا دیکھْنا چاہے،
اور زَبانیں…
بولنے سے پہلے
اپنی قَبْر کھودتی ہیں۔

کیا تُم نے سُنا؟
وہاں آزاد سوچ
جیسے کسی مَسْجِد کی أذان کو
بازار کے ہَنگامے میں دَفْن کر دِیا گیا ہو!

ہر راہْرَو 
راہْزَن میں بَدَل گیا،
کیوں کہ سچ کہنا
مَوت کو خَط لِکھنے جیسا تھا۔

مَیں نے ایک مَرْدِ حُر کو ڈُھونڈا 
جو صدِیوں کی غُلامی کو
اک لَمحے کی لَلْکار سے رَوند دے،
جو کہے:
“مَیں وُہ سُوال ہُوں
جِسے تُم نے صدِیوں چُھپایا!”

مگر…
بَسْتی غُلام تھی!
اور آزادی؟
ایک مُقَدّس گالی 
جو دیوار پر لِکھی تو جا سکتی تھی،
مگر بَولی نہیں جا سکتی تھی۔

مَنْزِل؟
أوه! یہاں تو
راستے خُود
اپنے نَقْشِ قَدَم سے شَرْمِندہ ہیں!
زَمین بھی
خُود سے نَظَریں چُھرا لیتی ہے،
اور ہَوا 
مَحض اک سَنْسَر شِپ کی رِپورٹ ہے
جو تُمھارے کانوں سے پہلے
تُمھارے ضَمِیر کو پابَند کرتی ہے!

سو مَیں لِکھتا ہُوں 
شاید کوئی پَڑھ لے!
کوئی جاگ جائے!
کوئی آنکھ…
اِس زَنْجِیر کو پَہچان لے
جِس کا نام رِوایَت ہے
اور جِس کی کَلِید
بَس أک بَیدار سُوال ہے۔

مَیں کہتا ہُوں 
وقت آ چُکا ہے
کہ خواب صِرْف آنکھوں میں نہیں،
سَڑکوں پر گُونجیں،
اور قَلَم…
قَبْر سے نہیں،
زِندگی سے بات کرے!

مَیری سَرْزَمِین 
مَیرا خواب ہے!
اور خواب 
وہی سچ ہے
جو تُمھارے پُورے نِظام کو
ک جَھٹکے سے بے نِقاب کر دے!

یہ ہے اِفْری کی لَلْکار!
بَغاوَت کا جَمال،
اور شُعور کی شِدّت 
جو صِرْف سچ کو نہیں،
بَلْکہ سچ کے سائے کو بھی چِھید ڈالتی ہے۔

اِفری


Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *