آنکھیں
وُہ حَرف نہیں کہے ہوئے
جو دِل کی دیوار پر خُودبَخُود لِکھے جاتے ہیں۔
کبھی وُہ ایک جھیل ہوتی ہیں
اِتنی پُرسُکون
کہ وَقت بھی اِن پر ساکت ٹھَہر جائے
اور اِتنی گہری
کہ خُود روشنی بھی
اپنا عَکس بھول جائے۔
میں نے آنکھوں میں
وُہ جَنگیں دیکھی ہیں
جو لَفظوں سے نہیں
خاموشیوں سے لڑی گئیں۔
جب یہ لڑتی ہیں
تو دُنیا کی ہَنگامَہ خیزی
مَحض ایک پُرانا خواب لگتی ہے
ایک ایسا خواب
جِسے ہم نے کِسی اور وَقت میں دیکھا تھا۔
اور جب یہ کھُلتی ہیں…
نہیں — صِرف کھُلتی نہیں
وَہ راز عِیَاں کرتی ہیں
جِنہیں صَدیوں سے
ستارے، مِٹّی، اور دھَڑکنیں
محفوظ رکھتے آئے ہیں۔
یہ کھِڑکیاں ہیں — اِفری
نہ صِرف جِسم کی
بَلکِہ رُوح کی،
اور شایَد کائنات کی بھی۔
آنکھیں
جِن سے عِشق بولتا ہے
اور جِن سے سَچ
خاموشی سے چیختا ہے۔
….اِفری….
![]()

