Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem نظم

کسی کی یاد کا پڑاؤ

تھا کسی کی یاد کا پڑاؤ
گزری درد میں رات ساری

میں تنہا کھڑکی میں بیٹھا کر
تکتا رہا چاند دیر تک

جھونکا چلا سرد ہوا کا
تو کچھ دیر موندھ لیں آنکھیں

کھلی کھڑکی سے خوشبو آئی
دیکھا تو گلاب تھا رکھا ہوا

یادوں کے میٹھے زخم دل میں
چُپکے سے چھپے ہوئے پیار کے قصے

چاندنی نے لپیٹا مجھے اپنی بانہوں میں
اور ہوا نے سنبھالا خوابوں کے حصے

یادوں کے سائے دل کے آئینے میں
آج بھی کچھ تو رازِ وفا کے نشاں ہیں

گلاب کی خوشبو میں چھپی تھی وہ بات
جو نہ کہی گئی، مگر دل کے قریب رہی

وقت کی لہروں نے کچھ خواب بہا لیے
پر تیرا نقش قدم کبھی مٹا نہ سکا

دوریاں بھی جو آئیں، دل کے قریب رہیں
تیری یاد میں ہی جینے کا مزہ پایا

محبت کی زبان جو لفظوں سے آزاد رہی
دل کے ہر کونے میں اِفری تیرا نام رہ گیا

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *