Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

اللہ ہی کافی ہے

اِک اُداسی بَسی ہُوئی ہے خَستہ بَدَن میں،

مَگر اُمّید کا چِراغ اَب بھی جَلتا باقی ہے۔

اَںدھیروں میں ڈھوںڈتا ہُوں روشنی کا پَتا،

یَقین کی لَو سے دِل کا راستَہ باقی ہے۔

ہزار بار گِرا ہُوں میں تھَکن کے صَحرَا میں،

دُعاؤں کا سہَارا ہے، حَوصلَہ باقی ہے۔

یہِی صَدا لَبوں پہ ہے ہر گھڑی و لَمحے،

اَللَّٰہ ہی شافِی ہے، اَللَّٰہ ہی کافِی ہے۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *