اِک اُداسی بَسی ہُوئی ہے خَستہ بَدَن میں،
مَگر اُمّید کا چِراغ اَب بھی جَلتا باقی ہے۔
اَںدھیروں میں ڈھوںڈتا ہُوں روشنی کا پَتا،
یَقین کی لَو سے دِل کا راستَہ باقی ہے۔
ہزار بار گِرا ہُوں میں تھَکن کے صَحرَا میں،
دُعاؤں کا سہَارا ہے، حَوصلَہ باقی ہے۔
یہِی صَدا لَبوں پہ ہے ہر گھڑی و لَمحے،
اَللَّٰہ ہی شافِی ہے، اَللَّٰہ ہی کافِی ہے۔
![]()