Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem نظم

یِہ کیسی زِندَگی ہے؟

یِہ کیسی زِندَگی ہے؟ یِہ کیسا اِنتِظَار ھے؟
یِہ کیسا اِنصاف ہے، یِہ کیسا کاروبار ھے؟

کِسی کے ہَونٹ گُلابی، کِسی کی آںکھ میں رَتجَگے
کِسی کے مَحل رُوشَن، کِسی کی جھونپڑی میں اَںدھیروں کے دُھںدلَکے
اَدھورے سَپنے لِئے دِن چَڑھتا ہے، شام بُجھتی ہے
کِسی کی بِیٹی لاچار، کِسی کے جَشَن میں قَہقَہے

یِہ رَنگین شَہر، یِہ بُلند عِمَارتیں، یِہ قِیمتی گاڑیاں
مَگر گَلیوں میں نَںگے پاؤں پِھرتے ہیں مَیرے سُوال
اَمیر کے بَچّوں کو چُھٹِّیاں، تَفریح، غَیر مُلکی کھانے

مَیرے بَچّے سُوال کَرتے ہیں
“اَبّا! آج کیا پکَے گا؟”

مَیرا مَزدُور سَڑک کِنارے ہاتھ پَھیلائے کھڑا ہے
اور کِسی کے لِباس کی قِیمت میں مَیرے گھر کا کِرایہ ہے
تُمھارے میک اَپ، جَراحِی، چَمکتی مَحفِلیں
اور یہِیں مَزدُور کی کَمَر جھُکی ہے
نہ دَوا، نہ چھُٹِّی، نہ تحَفُّظ، نہ سَہارا

تُمہارے دسترخَان پر چِکَن، مَٹَن، کَباب
مَیرے گھر میں پانی اَب سَالن بَن گیا ہے
کِسی ماں کے ہاتھوں میں چُوڑِیاں، سُکون، سِہرَآ
کِسی ماں کی آںکھوں میں بیٹی کی شادی کا تَپتا صَحرَآ

یِہ کیسا نِظام ہے؟ یِہ کیسا خَاب ہے؟
یِہ کیسی مُساوات، کیسا اِنتِخَاب ہے؟

یِہ وَعدے، یِہ مَنشُور، سَب جھُوْٹ کی کاغَذی تَہیں
بے رُوزگار جَوان، شَرمںدگی سے گَردن جُھکائے
عِصمتیں نَوچ لِی جاتی ہیں
اور حاکِم کہتے ہیں “سَب ٹھیک ہے!”

ہم روز جِیتے ہیں… لیکن لاشوں کی طرح
ہماری خامُوشی بھی بَغاوَت سے کَم نہیں
دُعا کَرو، یا نِیّت بَدلُو
وَرنہ جِس بَچّے نے بھُوک میں آںکھ کھولی ہے
کَل وہ اِنقلآب بَن کر اُٹھے گا
ا
یاد رَکھو! مَزدُور کی آہ بےآواز نہیں ہوتی
جَب اُٹھتی ہے… تو تَخت اُلٹآ دیتی ہے۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *