میرے سارے جَذبے گَروی تھے
کسی اور کے خوابوں کے عِوَض
حَوصلے، نَعرے
سب مُستَعار تھے
جیسے میں جیتا رہا
کسی اور کی لِکھی ہوئی کہانی میں۔
میرے لَفظوں میں میری صَدا نہ تھی
میرے فیصلوں پر کسی اور کی مُہر تھی
میں خُود کو پڑھنا چاہتا تھا
مگر ہر صَفحے پر
کسی اور کا قَلَم چلتا رہا۔
کبھی سوچتا ہوں
کیا میرا وُجود بھی مُستَعار تھا؟
یا میں نے خُود اپنی نِیلامی میں بولی لگائی تھی
خاموشی کے بدلے؟
اب، جب کچھ بچا ہی نہیں
تو سوچتا ہوں
شاید اب
“میں” بننے کا وَقت آ گیا ہے۔
……..اِفری……..
![]()