آج کا قاری کہتا ہے
بات کو مختصر کرو
وہ کیا جانے
کہ ساٹھ برس کی دھوپ چھاؤں
ساٹھ برس کی ہنسی اور آنسو
ساٹھ برس کی ہزیمت اور فتح
کیسے سمٹ سکتی ہے
چند لفظوں کی تنگ قید میں؟
زندگی
ایک لامتناہی کہانی ہے
جہاں ہر دن
ایک نیا باب کھلتا ہے
اور ہر لمحہ
اپنی کتاب لکھتا ہے۔
میں کیسے پرُو دوں
ساٹھ برسوں کا سفر
کسی ایک جملے کے ہار میں؟
—افری —-
![]()

