ایک بستی میں ایک شخص نے بڑا خونخوار کُتا پال رکھا تھا۔ وہ کُتا اکثر گلی میں آزاد گھومتا، راستہ روکتا اور گزرنے والوں پر بھونکتا۔
بستی کے سب لوگ کُتے سے ڈرتے۔ جو بھی وہاں سے گزرتا، دبک کر یا قدم تیز کر کے نکلنے کی کوشش کرتا۔ کئی بار کُتے نے بچوں کو کاٹنے کی کوشش کی، لیکن پھر بھی کسی نے اس کے مالک کو جا کر نہیں کہا کہ
“یہ کُتا آزاد کیوں گھومتا ہے؟
اس کے گلے میں پٹہ کیوں نہیں ڈالا گیا؟”
سب لوگ اپنے اپنے دل میں سوچتے:
“یہ کُتا گھر کی حفاظت کے لئے ہے یا گلی پر قبضے کے لئے؟”
مگر زبان پر کوئی نہ لاتا۔
یوں بستی کے لوگ روز ڈرتے رہے، اور کُتے کا مالک بھی اپنی خاموشی کو اجازت سمجھتا رہا۔
کبھی غور کریں تو مختلف رویوں کی صورت میں مثالیں بن کر سامنے آتی ہیں۔
مدرسے کا سبق یہ بچپن میں ہم اب نے بھی بھگتا ہے:
اگر استاد ظالم ہو اور طلبہ سب کچھ سہتے رہیں مگر آواز نہ اٹھائیں، تو استاد اپنی زیادتی کو حق سمجھنے لگتا ہے۔
اداروں اور دفاتر کی حالت:
اگر ایک افسر ماتحتوں کو غیر ضروری دباؤ ڈالے اور سب خوف سے خاموش رہیں، تو وہ ظلم بڑھاتا جاتا ہے۔ اگر سب مل کر ادب سے بات کریں تو افسر کو بھی اپنی حد کا احساس ہو۔
معاشرے و سماج کا رویہ:
اگر محلے میں کوئی طاقتور فرد ناجائز قبضہ کرے، اور لوگ ڈر کر خاموش رہیں، تو وہ طاقتور اپنی مرضی کو قانون سمجھ لیتا ہے۔ لیکن اگر سب اکٹھے ہو کر آواز بلند کریں تو انصاف قائم ہوتا ہے۔
اس حکایت کے زریعہ میں نے ایک سبق دینے کی کوشش کی ہےکہ:
ظلم اور ناانصافی صرف طاقتور کی وجہ سے نہیں بڑھتی، بلکہ اکثر لوگوں کی اجتماعی خاموشی اس کا اصل سبب بنتی ہے۔ اگر بستی کے سب لوگ مل کر مالک کو کہتے کہ “کُتے کو قابو میں رکھو”، تو نہ صرف گلی محفوظ ہو جاتی بلکہ مالک کو بھی اپنی ذمہ داری یاد رہتی۔
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ۔
![]()