حکایت: راہِ حق کا سفر
ایک صحرائی راستے پر ایک نوجوان مسافر تنہا چل رہا تھا۔ ریت کے ٹیلوں اور شام کی سنہری روشنی میں اس کا دل بےچین تھا، مگر اس کے قدم پختہ تھے۔
:چند لمحوں بعد، تھکن سے ہچکچاتے ہوئے اس نے دل میں کہا
“!کاش یہ راستہ آسان ہوتا… یا کم از کم کوئی فائدہ نظر آتا”
اسی لمحے ایک دانا بزرگ سامنے آئے، جن کے چہرے پر سکون اور آنکھوں میں روشنی تھی۔ انہوں نے نوجوان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے
“بیٹا، راہِ حق پر جانے میں کبھی نقصان نہیں ہوتا۔”
نوجوان نے حیرانی سے پوچھا
“لیکن بزرگ، مشکلات اتنی ہیں، خطرات ہیں، لوگ ہنستے ہیں… تو کیا یہ سب کچھ قابل برداشت ہے؟”
بزرگ نے مُسکرا کر کہا
بیٹا !اگر تم راستہ اختیار کرتے ہو صرف مقصد کے لیے، اور اسے اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہو، تو ہر قدم کامیابی ہے۔ ہر مشقت، ہر تھکن، ہر رکاوٹ، سب کچھ اللہ کے سپرد ہے۔ راہِ حق میں گُم نہیں ہوتے، بلکہ رُوح کی بلندی میں اضافہ ہوتا ہے۔
نوجوان نے دل میں سوچا، اور پھر آہستہ آہستہ قدم بڑھائے۔ ہر قدم کے ساتھ اس کے دل میں سکون بڑھتا گیا، اور اس نے جان لیا کہ اصل کامیابی راہ پر ثابت قدم رہنا اور ہر چیز اللہ کے سپرد کر دینا ہے۔
اور یوں، اس نے سبق سیکھا کہ راہِ حق پر جانے میں کوئی نقصان نہیں، سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
محمد افراہیم بٹ۔
![]()
