Kheyal Darya

A mound of thoughts

A moral tale، A parable with a lesson، Anecdote، challenges، dubai، Education، Fable، Family، Forgotten URDU حکایاتِ افراہیم

حکایت 7 : مکڑی کا جالا، ارادہ، یقین اور وہم

حکایت 7 : مکڑی کا جالا، ارادہ، یقین اور وہم — انسانی سفرِ حیات کی ایک تمثیل

ایک سالک (راہِ حقیقت کا مسافر) اپنے مرشد کے پاس آیا اور عرض کیا:
“اے مرشد! میں حقیقت کی اس منزل تک پہنچنا چاہتا ہوں جہاں دل کو سکون ملے اور رُوح کو قربِ الٰہی نصیب ہو، مگر میرے قدم رکتے ہیں اور میرا دل ڈرتا ہے۔”
مرشد مسکرائے اور فرمایا:
“بیٹا! حقیقت تک کا سفر تین پردوں سے گزرتا ہے۔ پہلا پردہ ارادہ ہے۔ جب تو نے یہ طے کر لیا کہ مجھے حق تک جانا ہے، تو گویا تُو نے راستے پر قدم رکھ دیا۔ دوسرا پردہ یقین ہے۔ یہ منزل کا دروازہ ہے۔ اگر تیرا یقین کامل ہوا تو دروازہ خود بخود کھل جائے گا۔ لیکن تیسرا پردہ وہم ہے۔ یہ تیرے اپنے نفس کا سایہ ہے، جو دیوار بن کر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ دیوار نہیں، فقط دھوکا ہے۔”
سالک نے عرض کیا: “پھر میں کیا کروں؟”
مرشد نے جواب دیا: “اپنے ارادے کو چراغ بنا، یقین کو کنجی بنا، اور وہم کو نظر انداز کر۔ جیسے ہی تُو قدم بڑھائے گا، وہم کی دیوار مٹی کی طرح ٹوٹ جائے گی اور یقین کا دروازہ تجھے حقیقت کے باغ میں لے جائے گا۔”
سالک نے دل میں ارادہ پختہ کیا، اپنی سانسوں میں یقین بھرا اور وہم کو خاک سمجھ کر آگے بڑھا۔ دیوار غائب ہو گئی اور دروازہ کھل گیا۔ اندر نور ہی نور تھا، اور اس نور میں اسے اپنی منزل مل گئی۔
مرشد نے سالک کو جو سبق دیا اس میں :
ارادہ عشق کی پہلی جنبش ہے۔
یقین وصال کی کنجی ہے۔
اور وہم پردہ ہے، جو نفس نے کھڑا کیا ہے۔

نوٹ: آپ کا میری اس لکھی حکایت کے بارے میں خیالات مزید بہتر لکھنے میں مدد کریں گے۔ شکریہ

دعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ – العین

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *