اگر وُہ مِیری خَبَر رَکھتی
مُحَبَّت کے دَعوے، اِگر سَچ بھی ہوں
تو دِل میں اگر اُس کی پَرچھائیں ہوں
تو پِھر دَرمِیاں یہ فَصیلیں کیوں ہوں؟
یہ رَستے، یہ دیوار، یہ خامُشی؟
اگر اُس کو مِیری خَبَر کُچھ بھی تھی
تو ہِجران کی شَب میں یہ تَنہائیاں؟
یہ لَمحے، یہ سائے، یہ اُلجھن سی کیوں؟
یہ ہم کیوں بکھَرتے گَئے خامُشی؟
مَیں اُس کے لِیے خواب بَرسَا گیا
وُہ لَمحوں کو پَتھَّر بَنا کَر گَئی
مَیں تارا بَنے آسمَاں میں رَہا
وُہ بادل بَنی، چُھپ کے رَو دی گَئی
سُو اَب دِل یہ پُوچھے، یہ سَب کیوں ہُوَا؟
اگر ساتھ دَینا مُقَدَّر میں تھا
تو پِھر راستے کیوں بَدَلتے گَئے؟
یہ ہم اِتنے خامُوش کیوں ہو گَئے؟
![]()