لڑ رہے ہیں رہ میں ہی کیوں یہ سب افری
ہیں گر سارے مسافر اپنی منزل کے
آزادی کے نشان لئے ہم چل پڑے ہیں
کٹھن راہوں میں خون کے رنگ بھی سہتے ہیں
ظلم کی زنجیر ٹوٹ جائے گی ایک دن
ہاتھ میں ہاتھ، دل میں حوصلے کے دَم ہیں
شہر کے بازار، دیہات کے میلے
سب بتاتے ہیں کہ حق کی راہ میں جلے
مگر جوشِ دل کے شعلے نہ بجھیں کبھی
ہم سر اٹھا کے قدم اپنے جمائے چلیں
کبھی چھاؤں میں چھپ کر خواب توڑے گئے
کبھی امید کے چراغ بجھانے کی کوشش ہوئی
پر ہر زخم، ہر جُدائی ہمیں اور مضبوط بناتا
یہ افری، یہ مصائب، ہمیں منزل دکھاتا
کہا “اِفری” نے، راستوں کے جنگلوں میں
ہمیں یاد دلاتا، جدوجہد میں ہے سب کا کمال
افری
![]()