Kheyal Darya

A mound of thoughts

سچی کہانی

بِھڑوں کا محاذ

بِھڑوں کا محاذ
دیہاتی (پینڈو) بچوں کی بہادری کی کہانی
بچپن کے دن بھی کیا دن تھے! دیہات میں نہ کمپیوٹر تھا، نہ موبائل، نہ ویڈیو گیمز۔ کھیل کے لیے بس کبڈی، درختوں پر چڑھنا، غلیل سے پرندوں کا شکار اور یار بیلیوں کی شوخیاں ہی دنیا ہوا کرتی تھیں۔ دیہاتی بچوں کی طرح ہم بھی بڑھ چڑھ کر بہادری کے مظاہرے کے لئے پیش پیش ہوتے تھے۔ تمام دوست ناموری کے لئے معرکۂ آرائی کے مورچے ڈھونڈتے رہتے تھے.

کبھی قبرستان کے قریب ساتھ ساتھ لگے تین عدد برنے کے درختوں پر چڑھ کر چلَل ملَول ڈنڈا کھیلنا اور ٹارزن کی طرح “باری سے بچنے کے لی” درخت بدلنا، کبھی پٹھو گرم کھیلنا ، گِلی ڈنڈا، باندر کِلی اور کبھی… بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنا (میں ہاتھ ڈالنا)!
ہمارے گاؤں سعیلہ کے پرائمری سکول جہاں ہم پڑھتے تھے ، اس کی پرانی بلڈنگ کے ایک کمرے کی پرانی دیوار کے اندر ایک چھپا ہوا بِھڑوں/(تمہوڑیوں) ( بلکہ مادہ و نر وسپ ) کا چھتہ کھوج نکالا۔ لیکن دیوار کے کافی اندر چھپا ہونے کی وجہ سب بےخبر تھے کہ ان کی تعداد کتنی تھی۔ تاہم ہم اس کے باوجود ان سے “بِھڑ جانے کا ارادہ کر لیا۔”

ہماری دلیری کی وجہ بھِڑوں کے ڈنگ مارنے کی مشھوری کے باوجود یار بیلی انہیں مسجد کے وضو کے پانی ، مختلف درختوں اور دیواروں کے اندر اُن کے چھتوں سے ڈھونڈھ نکالتے۔ پھر بھِڑوں (تمہوڑیوں/تمہوڑوں) کے ڈنگ نکال کر اُن کی دُم (دُموں؟) سے سلائی والا دھاگہ باندھ کر ان کی اُڑان کے مقابلے کرواتے اور خوب تالیاں اور نعرے لگاتے!

نِر بِھڑوں (تمہوڑ، ڈیمو، ڈڈار) کو پکڑ کر اپنے زرعی ثقافتی ماحول کے مشاہدات کی بنا پر ببول کے کانٹے اور ہلکی کائی کی تیلیوں سے کنواں بنا کر اور چاۓ کے (پیالہ کو کنواں کی شکل میں ان نَر بھِڑوں کو) جوتا کرتے کیونکہ وہ زیادہ طاقت ور ہوا کرتے تھے!
حالانکہ وہ بچپن میں دِکھنے میں مادہ/زنانہ بِھڑوں سے زیادہ بدھے اور ڈراونے لگتے تھے لیکن اُن میں ڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے وہی ہمارا دلیرانہ شکار ہوا کرتے، جن کھیلوں کا میں نے ذکر کیا اس کی وجہ ہمارا اس وقت تک دُنیا کا سارا علم اور کھیل بھی ایسے تھے۔

ویسے بھی ہمیں بھڑوں سے کھیلنے کے کئی ڈھنگ آتے تھے۔ لیکن اب کے جب میں پاکستان گیا تو فروٹ کی ریڑھی پر جب نَر بِھڑوں کو دیکھا تو زاویہ نظر اور بدلتی عمر کے مطابق بہت وجہی بھُورے اور پیلے رنگ کے ساتھ بھلے لگے۔ ان کا عام طور پر جسم بڑا اور پیٹ زیادہ لمبا ہوتا ہے۔ سراور اینٹینا لمبے اور مڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ صرف مادہ بھڑ سے ملاپ کے لیے ہوتے ہیں، پھر جلد مر جاتے ہیں۔ نَر بھڑ ہمیشہ کم ہوتے ہیں، زیادہ تر بھڑیں مادہ ہی ہوتی ہیں۔

ان کے مقابلے میں مادہ/زنانہ بھڑیں ہی ڈنک رکھتی ہے اور انسان یا جانور کو ڈنک مار سکتی ہے۔ جسم نسبتاً چھوٹا لیکن مضبوط سلِم سمارٹ اور چُست ہوتا ہے۔ اینٹینا سیدھے اور نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں۔ خوراک ڈھونڈتی ہیں، گھونسلہ بناتی ہیں اور دفاع کرتی ہیں۔ ڈنگ کے سٹنگرز صرف مادہ بھڑ کے پاس ہوتا ہے۔

سکول میں دوستوں میں مشورہ ہوا کہ سکول والے مورچہ پر حملہ کیا جاۓ! تعداد نامعلوم ہونے کے باوجود پرانے ہونے کی وجہ سے گمان تھا کہ چھتہ کافی بڑا ہو سکتا تھا، جہاں سے وہ جہازوں کی صورت باہر نکلتے دیکھائی بھی دیتے تھے! ہم نے بیٹھ کر اُن کی دو گھنٹے مانیڑنگ (مراقبہ لگایا) بھی کی اور شاید عمریں کم ہونے کی وجہ سے اندازہ غلط تھا کیونکہ بِھڑیں نظرنہ آنے کی وجہ سے ہمارا ڈنگے جانے کا خوف ختم ہوگیا تو حملہ کرنے کا سوچا اور اصل میں پانچ دوستوں میں باری باری جانا طے پایا۔

بتانے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بِھڑکوں کے مَیل (مَیٹنگ) کا موسم تھا جب مادہ بِھڑیں اپنے چھتوں(گھروں) میں آرام فرما تھیں۔
تین دوستوں کے حملوں کی ناکامیوں کے بعد میں مشن پر نکلا گیا تو میں لمبا کانا لے گیا کیونکہ نَر بِھڑیں ننید سے بیدار نہ ہوۓ۔ شروع میں میں ایک آنکھ سے سوراخ کے اندر جھانک کر مائن کی چیکنگ کی تو پہلی دفاعی لائن سے نَر بِھڑوں نے بھرپور حملہ کر دیا تھا تب تک تو ٹھیک تھا لیکن اچانک مادہ بِھڑ معشوقاؤں کا حملہ اتنا شدید حملہ کیا کہ چہرے اور خاص طور پر میری داہنی آنکھ کو چار ڈنگ مارے گئے تو یار لوگ تو دور بھاگ گئے لیکن میں نے تبرے بولنے شروع کر دیئے تو وہ دور کھڑے مشورے دیتے رہے!
یار بیلیوں نے کہا
“بھائیو! مشھوری چاہیے تو یہی موقع ہے!”
دوسرا بولا: “آج جو بِھڑوں کو چھیڑنے کا بہت مزہ آۓ گا، دیکھتے ہیں کون ہیرو ہو گا”
بھڑوں کے ڈنگ نکال کر دم میں دھاگہ باندھتے اور ان کی پرواز کے مقابلے کرواتے۔
نَر بھڑ یعنی انگریزی والے “پروکٹر (جنہیں ہم “تمہوڑ، ڈیمو، ڈڈار” کہتے تھے) کو پکڑ کر ببول کے کانٹے اور کائی کی تیلیوں سے کنواں بناتے، اور پھر چاۓ کے پیالے میں لڑاتے۔
سب ہنستے، قہقہے لگاتے

ایک دوست فخر سے کہتا: “میرا ڈیمو سب سے تیز اور بلند اُڑا، دیکھ لو”
دوسرا نعرہ لگاتا: “واہ! میرے ڈڈار نے تمہارے کو چاروں شانے چِت کر دیا”
کیونکہ نر بھڑ کے پاس ڈنک نہیں ہوتا، وہ ہمارے کھیل کا “محفوظ شکار” تھے۔ لیکن مادہ/زنانہ بھڑیں… وہ تو اصل دشمن تھی۔
ایک چھٹی والے دن سب نے فیصلہ کیا کہ سکول والے “مورچے” پر حملہ کیا جائے۔ دو گھنٹے ہم نے چھتے کی “مانیڑنگ” (یعنی مراقبہ لگایا) کی۔ بھڑیں باہر نہ نکلیں تو ہم سمجھے شاید اندر کوئی نہیں۔

ایک دوست خوش ہو کر بولا: “اوئے لگدا اے چھتہ خالی پیا اے”
دوسرا کہنے لگا: “ہاں، ایہ تے بڑا آسان ہدف ہو گا۔”
پھر طے ہوا کہ پانچوں دوست باری باری حملہ کریں گے۔
پہلے تین دوست ناکام ہوئے۔ چوتھی باری میری تھی۔ میں لمبا کانا ساتھ لے کر پہنچا۔ جاسوسی انداز میں سوراخ کے اندر جھانکا ہی تھا کہ…
تو پہلی دفاعی لائن سے نَر بھڑوں نے بھرپور حملہ کیا۔ جیسے وہ پہلے سے ہی گھات میں بیٹھے تھے۔ خیر، وہ تو برداشت تھا کیونکہ اُن میں ڈنگ نہیں ہوتا مگر وہ تولیدی نظام کے لیے ہوتے ہیں۔

لیکن پھر اندر سے اصل “معشوقائیں” یعنی مادہ/زنانہ بھڑیں بیدار ہو کر حملہ آور ہو گئیں۔
چار ڈنگ ایک ساتھ میرے چہرے اور آنکھ پر
میں چیخا: “اُوئے! ایہہ کی ہو گیا”
یار بیلی پہلے ہی دور بھاگ کر اُن کے حملہ کی حدود سے باہر نکل کر کھڑے مشورے دے رہے تھے۔
“اوئے بھاگ، بھاگ “
“پیاز کھا اور ڈنگ والی جگہ پر رگڑ لے”
“نہیں، لوہے نال رگڑ، جلدی”
ایک نے ہنس کر کہا: “اوئے ہُن تے تُو اصلی جرنیل بن گیا ایں”
لیکن سب میرے قریب آنے کے بجائے دور کھڑے لقمان الحکیم بن رہے تھے۔

جب منہ سوجنے لگا اور آنکھیں بند ہونے لگیں تو مشورے کے مطابق میں سکول کی گیٹ پر چڑھ کر گرم لوہے کی چادر سے رگڑنے لگا۔ پھر کوشش ِ بسیار کے بعد بھی آرام نہ آیا.

اس زمانے میں ڈنگ زائل کرنے کے لئے زیادہ کڑوے پیاز گھر والوں سے چھپا کر کھایا کرتے اور پھر وقتِ معرکۂ ہاتھوں پر مَل بھی لیا کرتے تھے۔ لیکن سکول کے معرکے میں شدتِ درد کی وجہ سے کچھ بھی کام نہ آۓ تو آخری علاج ہوتا گرم لوہے سے ٹکور کا تجربہ بھی ناکام ہو گیا۔

جب درد حد سے زیادہ بڑھا تو میں گھر بھاگ کر آیا ، پہلے چھپ چھپا کر داخل ہوا۔ لیکن جب آنکھیں سوج کر “کورین فلم کے ہیرو” جیسی لگنے لگیں تو چھپانا مشکل ہو گیا۔

امی مرحومہ کے سامنے گیا تو وہ ہنستے ہوئے بولیں
“ہائے خیر میرے پُتر! ایہہ کی شکل بنا لئی اے؟ بھڑاں نال جنگ لڑن گیا سی؟”
پھر ماں نے ڈانٹا نہیں، بلکہ قرآن کی آیات پڑھ کر دم کیا۔ آخر میں کہا
“چل پُتر، گرم گرم دودھ پی لے۔ اللہ خیر کرے گا۔”
گرم دودھ میں انڈہ ڈال کر پلایا، اور سونے کے لیے بھیج دیا۔

سوتے وقت بِھڑوں کے حملے کے سین اور آوازوں کی بازگشت سنائی دی تو یار بیلی لوگوں سے بدلا لینے کا سو چتے سوچتے سو گئے! پھر تین دن تک شکل بدلی ہونے کی وجہ سے سکول نہیں گسونے سے پہلے بِھڑوں کے حملے کے سین اور آوازوں کی بازگشت سنائی دی تو یار بیلی لوگوں سے بدلا لینے کا سو چتے سوچتے سو گئے!

————- اب اس سے کیا سبق حاصل ہوتا ہے۔ یہ آپ اپنے کمنٹس سے بتائیں گے۔
شکریہ۔۔۔
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ۔
(اپنی پرانی ڈائری سے / 2003 یادیں)

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *