سلام اُس دِل پہ جو ہر شَب، بےزَباں، خاموش ہے
دَرد کی پَرچھائیّاں، جِس کے لَہُو میں خَیمہ زَن۔
نِیند کی دَہلیز پر جب خواب سائے بان ہوں
وُہ تَڑپتا ہے اَکیلا، جَیسے ہو کوئی شِکن۔
بَںد کھِڑکی، بَںد دَر، رُوشن نہیں کوئی چِراغ
اور دِل کی چِیخ کو سُنتا نہیں کوئی سُخن۔
رَو رہا ہے اِس طرح جَیسے ہو دُنیا کا دُکھ
جَیسے ہر آسیب کا ہو سینۂ بے آب، ہُنَر۔
کون سُنتا ہے اُسے؟ کون ہے جو چُھو سکے؟
اِک سائے کی طرح وُہ بھیڑ میں تَنہَا پِھرا۔
اُس کا رونا، اِک صَدا تھی گُم زَمانے کی فَضا
اور کوئی بھی نہ تھا جو دَرد کو سَمجھے، سَرا۔
—-
اِفری
![]()
