Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

خاموش آواز

خاموش آواز

مَیں بولتا نہیں،
مَگر لَفظ میرے اَندر سانَس لیتے ہیں۔
میری تَحریر —
اِک خاموش چیخ ہے،
جِسے صِرف وَہی سُن سکتا ہے
جو خُود سے کَبی مُخاطَب ہوا ہو۔

قَلَم؟
یہ میرا ہاتھ نہیں،
یہ اِک دَریا ہے
جو میری رَگوں میں بَہتا ہے
اور کاغَذ پر
خُود کو پَہچاننے نِکل پڑتا ہے۔

مَیں نے بَرسوں تَنہا رہ کر
خاموشیوں کی بولِیاں سیکھیِں،
رِیاضَت کی،
ہر لَفظ کو دِل میں رَکھا،
پِھر دِل کو دُھویا
اور خُود سے سُوال کیا:

“کیا آواز وَہی ہے جو سُنی جائے؟
یا وَہ، جو اَندر گُونجتی ہے
اور باہر آنے سے اِنکار کرتی ہے؟”

خُود کَلامی؟
ہاں —
یہ مَیں ہوں
اپنے ہی آئینے سے گُفتگو کرتا ہوا،
اپنی ہی چھاؤں میں بیٹھا،
رَوشنی کی تَمنّا لیے۔

مَیں شاعِر ہوں،
لَفظوں کا شَہزادہ نہیں،
دھوپ اور دھُند کے بیچ سَفر کرتا
اِک ایسا مُسافِر ہوں
جِسے خوابوں کی سَرحَدیں روک نہیں سکتیں۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *