Kheyal Darya

A mound of thoughts

لیکچرز

عمران احمد خان: پاکستان اور امتِ مسلمہ کی اُمید

تمہید: ایک راہنما، ایک منزل

قوموں کے نصیب میں بہت کم ایسے لمحے آتے ہیں جب تاریخ کسی فرد کو صرف ایک انسان نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک انقلاب، ایک بیداری کی صورت میں چنتی ہے۔ ایسا شخص جو صرف سیاستدان نہ ہو بلکہ اپنی ذات سے نکل کر قوم کی روح کو جگانے والا ہو۔ پاکستان کو بھی ایسا ہی ایک راہنما عطا ہوا جو بڑا دلیر، عقلمند، اور جہاں دیدہ ایمان و یقین والا انسان ہے۔ جسے ہم سب عمران احمد خان نیازی ہے۔   

پچیس سال قبل جب اُسے پہلی بار دیکھا، تو دل نے گواہی دی کہ یہ شخص “درویشی” کو چھو چکا ہے۔ میں نے دوستوں سے کہا یہ وہ مسافر ہے جو خودی کے سفر پر نکل چکا ہے، جو اپنی ذات کے حصار سے نکل کر قوم میں غیرت اور اس کی آنکھوں میں بیداری ڈالنا چاہتا ہے۔”

حضرت علیؓ کا فرمان ہے: “أفضل الزهد إخفاء الزهد”، یعنی بہترین زہد وہ ہے جو چھپا ہوا ہو۔

عمران خان نے اپنی زندگی، اپنی سادگی، اپنی نیت اور قربانی سے اسی زہد کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس کا ہر قدم گویا *لا حول ولا قوۃ الا باللہ* کی عملی تفسیر بن گیا۔ اس نے اپنی دنیاوی آسائشیں، شہرت، حتیٰ کہ آزادی تک، قوم کے شعور کے لیے قربان کر دی۔

عمران خان ایک سازشوں میں گھرا راہنما ہے۔ اس پر تنقید کرنے والے شاہ دولہ کے چوہے یا پھر ذہنی ماؤف و متعصب جاہلین ہیں۔ خیال آیا عمران خان کو دنیا کی بہترین درسگاہ سے ڈگری حاصل کئے اور کرکٹ کے میدانوں میں ہار جیت کی تکنیک اور پِدّی لگتے لگاتے تقریبا ۵۰ سال سے زیادہ وقت ہو چلے۔

دوسری جانب وہ طبقہ ہے جو میٹرک ۔ ایف اے پاس کر کے فوج، پولیس، بیوروکریسی اور میڈیا کے نظام میں سلوٹ مارنے داخل ہوتے ہیں لیکن آج خود کو ملک کا مالک و مختار سمجھتے ہیں۔ یہ وہی طبقہ ہے جس نے **لارڈ میکالے** کے ایجنڈے ” تقسیم کرو اور حکومت کرو”  کو سینے سے لگا رکھا ہے۔ قوم کو تعلیم و زندگی کے مختلف شعبوں و طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے۔ تاکہ لوگوں میں سوال کرنے کا جذبہ و شعور پیدا نہ ہو۔ سڑکیں اور پُل بناتے جاؤ انسان مت بناؤ۔ پھر جب چاہو توپ گولوں سے لیس ہو کر اپنے ہی لوگوں کو مار دو، تباہ کر دو کے تاکہ محرک کے ساتھ قابض ہو رہو۔ بس سڑکیں اور پل تو بنائے گئے، مگر **انسان** نہیں بنائے گئے. سچ تو یہ ہے کہ تعلیم کو طبقاتی، انصاف کو کاروباری، اور اداروں کو غلامی میں بدل دیا گیا۔

یوں لگتا ہے اس ملک کو ایک طبقہ نے “ٹھیکے پر لیا ہوا قطعہ اراضی” جیسا ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح سمجھا جاتا ہے، مختصرا” جہاں مفادات کا تحفظ، بیرونی آقاؤں کے وفاداروں کی خدمت میں لگا رہتا ہے۔

قرآن اور سیرت پاک صلى الله عليه وسلم کا مطالعہ کرتے یا دُنیا کے مروّج منصفانہ و جمھوری نظامات کو پڑھیں دیکھیں تو ڈر کر کہہ رہا ہوں پاکستان میں صاحب اقتدار و فیصلہ سازوں کی کوئی شخصیت، حرکت اور نظامت کا اسلام و دُنیا کی کسی کسوٹی پر پورا نہیں اترتے۔ کیونکہ ذاتی مفاد اور آخری مسکن وہی ممالک ہیں۔ پاکستان تو ٹھیکے پر لیا ہوا قطعہ اراضی ہے.

کیا ہم مسلمان ہیں؟

وہی اقبال رح والا سوا سو سال والا پرانا سوال کہ کیا کچھ بدلا بھی ہے؟

شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

قانونِ فطرت اور قائدِاعظمؒ محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا، “ “اللہ کا ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت جب کوئی قوم و معاشرہ اپنی منزل کی بجاۓ بے راہ روی کا شکار ہوتا ہے تو اللہ اُن کے اندر ایک ایسا شخص کھڑا کر دیتا ہے جو انہیں دوبارہ راہِ راست پر لا کر منزل تک لے جاتا ہے۔” عمران خان کے نصیب میں اللہ تعالی نے شاید وہی انتخاب رکھا ہے۔”

قرآن کریم بھی یہی اصول بیان کرتا ہے “ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً، وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ، إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ”

“اگر تیرا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک امت بنا دیتا، لیکن وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے، سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے۔” (ھود: 118-119)

عمران خان کو ماشااللہ دنیا میں ایک صاحبِ راۓ ، کرشماتی  شخصیت، مدبر  انسان اور لیڈر مانا جاتا ہے۔ سوچیں آئزک نیوٹن نے کتابوں کی جلدیں کرتے دُنیا کو علم دیا۔ مگر ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے؟  افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کے ساتھ جُڑنے والے چند صاحبِ کردار کے علاوہ انسانوں کے باقی اس کے حوالے سے اپنی پہچان بنانے پر مرکوز تھے لہذا اُن کے نزدیک ذاتی مفاد مقدم تھے۔ اسی لیے وہ اس نظریہ سے منحرف ہو گیے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جو  اپنی ذات کے حصار سے اوپر نہیں اُٹھتا وہ راہنما ہو نہیں سکتا۔ قران میں نیکی کے اعلی معیار  تک پہچنے کے لئے “اپنی پیاری چیز قربان کرنے کا امتحان رکھا گیا ۔۔۔۔”

“لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ”۔ “تم نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیز خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے۔” (آل عمران: 92)

عمران خان نے اپنی سب سے محبوب چیزیں شہرت، مال، خاندان، حتیٰ کہ آزادی تک حق کی خاطر قربان کیں۔ کیا یہ نیکی کی اعلیٰ مثال نہیں؟

قرآنی صفتیں جو راہنما کو بڑا بناتی ہیں۔ سورۃ العصر کے مطابق کامیاب وہی ہیں  جن مندرجہ ذیل صفات پائی جاتی ہیں۔

ایمان لائیں

نیک عمل کریں

حق کی دعوت دیں

صبر کی تلقین کریں

یہی صفات ہمیں جوعمران خان بھی ایسی ہی جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ پھر جو لوگ اللہ کی طرف توبہ کے بعد لوٹ آتے ہیں انہیں آواب کہا جاتا ہے۔ جن کے لیے قرآن فرماتا ہے۔ اِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ یقیناً وہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ (البقرہ: 37)

 

حضرت اقبال رح کے مطابق “ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم رکھنے والا انسان دُنیا مین کبھی رسوا نہیں ہوتا۔

ہم دیکھ ہی رہے ہیں ایک مسافر بڑے یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اگرچہ اس پر ناصرف ہر طرف سے  تہمتیں لگ رہی ہیں، سنگ باری ہو رہی ہے اور گلی محلے کے سارے کتے اس پر بھونک رہے ہیں! ویسے میرا تجربہ ہے گاؤں کی کسی نکڑ پر  کوئی کتا بھونکے تو  گاؤں کے تمام کتے متحرک و جمع ہو جاتے تھے کیونکہ انہیں اپنے تحفظ کا خطرہ لاحق ہو جاتا تھا۔ مگر

عمران خان مسلسل ریاستِ مدینہ کے اصولوں کا ذکر کرتا ہے، سنتِ رسول ﷺ کو فخر سے اپناتا ہے، اور اس کی روحانی طاقت کا سرچشمہ یہی عشقِ رسول ﷺ ہے۔

کیا ہم واقعی مسلمان اور پاکستانی ہیں؟

یا ہم بس قومی شناختی کارڈ پر درج *”اسلام”* کے خانہ پُری مسلمان ہیں؟

قوم، دین، غیرت، سچائی، اور قربانی سے ہمارا کیا تعلق بچا ہے؟

سورہ حم السجدہ کی گواہی جو ہمیں ثابت قدم، ایمان و ایقان کے ساتھ زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُوا۟ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَبْشِرُوا۟ بِٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔ “بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت پر جو تم سے وعدہ کی گئی تھی۔” (حم السجدہ: 30)

بات کو سمیٹوں تو اس عہد میں عمران خان ناصرف ایک شخص، بلکہ ایک امید بھی ہے۔ عمران خان ایک انسان سے بڑھ کر ایک علامت بن چکا ہے۔ درویشی، قربانی، حق گوئی اور بیداری کی علامت ہو جانے کے بعد ایسے شخص کا بال بھیگا نہیں ک سکتیں۔ بلکہ اسے دنیا کی طاقتیں مٹا نہیں سکتیں، کیونکہ وہ قوم کے شعور میں بس چکا ہے۔ بقول قران:

ان أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون۔ “یقیناً اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔” (یونس: 62)

بقول قران ، باقی رہنے والی نیکیاں ہیں پھر اللہ نے یہ بھی کہا کہ “ہم نے یہ زندگی اور موت اس لئے بنائی ہے کہ دیکھیں تم میں اچھا عمل کون کرتا ہے”۔

بقول اقبال رح۔

قلزم ہستی سے ابھرا ہے تو مانند حباب

اس زیاں خانے میں تیرا امتحان ہے زندگی

 

بقول میاں محمد بخش رح

رل مل سکھیاں ایتھے پانی نوں آئیاں کوئی کوئی مڑ سی بھر کے

جنہاں نیں بھر کے سر اُتے رکھیا او پیر رکھن ڈر ڈر کے

 

لہذا اس عارضی دنیا کی حیثیت کو ہمیشہ پہچان رکھو

لکھ ہزار بہار حسن دی اندر خاک سمانی

لا پریت اجئ محمد تے جگ وچ رہے کہانی

آخر میں یہ دعا ہے کہ:

یا اللہ! ہمیں سچ کو سچ ماننے، حق کو پہچاننے، قربانی دینے، اور اپنے نیک رہنماؤں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرما۔ پاکستان کو ظالموں، غداروں، اور مفاد پرستوں سے نجات دے کر ایک صالح قیادت عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

بقلم از: محمد افراہیم بٹ۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *