رات کی خاموشیوں میں جو آہستہ قدم رکھتے ہیں
وُہ صدیوں کے بھَید جاننے والے ہوا کرتے ہیں۔
جو ہونٹوں پر الفاظ نَہ لائیں، مگر دل کی آواز سُنیں
وُہ خاموش نغمَہ ساز ہوا کرتے ہیں۔
گلوں کے موسم میں بھی جو کاںٹوں کی گنتی کریں
وُہ تقدیر کے پیام رساں ہوا کرتے ہیں۔
جن کی مسکراہٹ کے پیچھے غم کی کہَانی چھُپی ہو
وُہ زمانے کے مُسافر ہوا کرتے ہیں۔
جو زخم سہہ کر بھی لب بَست:ہ رہیں
وُہ صبر کے استاد ہوا کرتے ہیں۔
جن کی نگاہوں میں خواب کبھی نہ مرتے
وُہ امید کے قافلہ سالار ہوا کرتے ہیں۔
اور جو بادلوں کی اوٹ میں چھپی بارش کو پہچان لیں
اِفری وُہی زمین کے وارِث ہوا کرتے ہیں۔
![]()