جنگِ عظیم کے بعد جب جاپانی یورپ میں گھومتے، تو مغربی لوگ انہیں کمیرہ تھامے تصویریں بناتے دیکھ کر ہنسا کرتے۔ لیکن وہی جاپانی اپنی ری انجینئرنگ، محنت اور عزم کے ذریعے دنیا کو حیران کن ترقی کا نمونہ پیش کر گئے۔
الحمد للہ، دبئی اور متحدہ عرب امارات نے بھی اسی طرح کا عزم اور مضبوط قیادت کے ساتھ ترقی کی وہ مثال قائم کی ہے جس نے دنیا کو متاثر کیا۔ ایک وقت میں انہیں بھی کمتر سمجھا گیا، مگر آج وہ جدید دنیا کے نمایاں نمونے کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔
چینیوں کو کبھی “نشئی”، کبھی “دو نمبر سامان بنانے والی قوم” کہا گیا۔ لیکن آج چین نہ صرف ایک عظیم تجارتی مرکز ہے بلکہ جدید عسکری اور صنعتی طاقت بھی ہے۔ ان کی حالیہ فوجی پریڈ نے دنیا کو ان کی قوت کا مشاہدہ کروایا۔
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں اپنی ایماندار اور مخلص قیادت، قومی غیرت و جذبے، اور دور اندیش حکمتِ عملی سے ترقی کرتی ہیں۔ یہی قومیں اپنی مصنوعات خود بناتی ہیں یا انہیں خریدنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
ترقی کبھی بیمار سوچ، بھکاری پن یا دوسروں کے سہارے سے نہیں ملتی۔ ترقی اُنہیں ملتی ہے جو خود پر بھروسہ کریں، اپنا کردار بنائیں اور دنیا کو اپنی محنت و حکمت سے حیران کر دیں۔
![]()


