نَظَرِیَّہءِ سُکون
مَیں نے کُچھ راستے چھوڑ دِیے
کُچھ لوگ، کُچھ قِصّے بھی
کہ جِن میں شور بَہُت تھا
اور دِل کی نِیںد ٹُوٹی تھی
نہ وُہ ہار تھی، نہ جِیت کا کھیل
یہ صِرف بَچاؤ تھا — خود سے،
اِک اَنجان تَباہی سے
مَیں چُپ رَہا،
کیُوں کہ چِیخنا ہر بار حَل نہیں ہوتا
اور کُچھ لَمحَے
خاموشی سے بَہتر سُںبھلتے ہیں
یہ کَمزوری نہیں،
یہ اُس عِزّت کی پَہچان ہے
جو مَیں نے
اپنے اَندر بَسائی ہے
![]()