Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

بارہ من کی دھوبن -2

بارہ من کی دھوبن

کانے سے کٹی تھی قلم کی کہانی
دواتِ سیاہی میں ڈوبی نشانی

وہ لفظوں کی خوشبو، وہ قرطاس کا خواب
کہ پہنچا تھا دفتر تلک، باب در باب

تین پہیوں کی ننھی سواری سے ابتدا
پہنچی موٹر کاروں کی دنیا کی انتہا

گھر کی گلی سے سفر کا یہ آغاز تھا
جہاں تک نظر تھی، وہی میرا انداز تھا

میں نے دنیا کو گھوما، ہر اک رنگ دیکھا
کبھی صبح کا منظر، کبھی شب کا شیشہ

مگر کھیل سارا ہے اُس رمز میں بند
کہ دھوبن کی پرچھائیں ہے دل کے پرند

میں لوٹا ہوں گردِ سفر کے لباس میں
سوالات لپٹے ہیں ماضی کی پیاس میں

عصرِ حاضر کی گونج میں ڈھونڈتا ہوں
وہ دھوبن کہ جس میں ہے رازوں کا جنوں

ہاں، ڈھونڈ رہا ہوں میں اُس ذات کا درپن
جہاں دھل سکے روح کے داغوں کا پیڑھن



بارہ من کی دھوبن

کانے سے کٹی قلم نے لکھی تقدیر کی بات
دواتِ سیاہی میں چھپی تھی صدیوں کی ذات

تین پہیوں سے آغازِ معصوم سفر ہوا
پھر رفتار بڑھی، بائیک اور موٹر کا جگر ہوا

گھر کی دہلیز سے نکلے تو دنیا کھلی
نگاہ نے ہر شہر، ہر بستی کی خوشبو سمیٹ لی

مگر جتنا بھی گھوما، جتنا بھی میں نے جانا
سارا کھیل لوٹ آیا ہے اک پرانا فسانہ

یہ دنیا کی چمک دمک، یہ شان و شرف سب دھوکا ہے
حقیقت تو دھلائی ہے، جو دھوبن کے چوکا ہے

وہ “بارہ من کی دھوبن” دراصل راز ہے دل کا
جہاں دھل سکیں داغ، جہاں اجالا ہو حاصل کا

میں لوٹا ہوں سفر کی گرد لے کر بدن پر
تلاش ہے مجھے سکون کی اُس دھوبن کے دامن پر

عصرِ نو کی روشنی ہے مگر اندھیرے بھی ہیں
میں ماضی کے سوالوں سے ابھی گھِرا ہوں یہیں

ہاں، ڈھونڈ رہا ہوں دھوبن کو جو صبر سکھائے
جو روح کے کپڑوں کو اجالے میں نہلائے


Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *