Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

اکیلا نہ جلتا۔

محبت کے دعوے… سچے ہوں گے شاید،
مگر اگر اسے میری خبر ہوتی،
تو رات کے ہجر میں
چاند اور میرا دل
اکیلا نہ جلتا۔

فاصلوں کے دریا کیوں بہے؟
کیوں ہر لفظ سے ایک دیوار اٹھتی رہی؟
اگر دلوں میں رہنے کی تمنا تھی
تو قدم قدم پر جدا ہونے کا فیصلہ
کس نے کیا؟

میں نے تو صبر کے کاسے میں خواب رکھے تھے
وہ کیوں چکناچور ہوئے؟
سوچتا ہوں…
اگر وہ قریب ہوتی
تو ہم کبھی دور نہ ہوتے۔

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *