1-
میں نے پوچھا راستے سے:
“تُو اتنا تھکا کیوں ہے؟”
تو اُس نے سر جھکایا، آنکھوں میں دھند کے ساتھ،
کہا:
“چلنے والوں کی داد میں…
حیراں دلوں کی آہیں،
نشے میں ڈوبے لوگوں کا شور،
رخصت ہونے والوں پر بہتے آنسو…
اور سینوں میں چھپی ٹوٹے امید کے ٹکڑے،
محبت کے ملبے، عمر کے ملال…”
بستروں پر بسی عیاشی کی خوشبو،
راتیں بپھر کر ناچتی ہیں بھوکوں کے بیچ…
ایک بچہ، راتوں میں بے وطن،
بھٹک رہا ہے،
غائب ہو گیا ان لوگوں کے سنگ جو خود گم ہیں…
بوڑھا جسے زمانے نے ٹھکرا دیا،
ریتوں میں بکھر گئی اُس کی عمر،
اور وہ صرف سناٹا ہے…
رات، جس نے ہمیں چاک کر دیا،
گویا ہم صرف جھکنے کے لیے پیدا ہوئے…
پھول، جو پہاڑیوں پر جھومتا رہا،
عاشقوں کے غم میں خاموش مر گیا…
اب کون کرے گا رحم اُس کے آنسوؤں پر؟
جو چلنے والوں کے قدموں میں کیچڑ بن گئے…
میں نے کہا آہستہ:
“صبر جمیل رکھو…”
تو راستے نے کہا:
“میں تو صبر کرنے والوں سے بھی مایوس ہوں…”
2
میں نے پوچھا راستے سے:
“تُو اتنا تھکا کیوں ہے؟”
تو اُس نے سر جھکایا، ہوا میں اٹکی تنہائی کے ساتھ،
کہا:
“چلنے والوں کی داد میں، حیراں دلوں کی آہیں،
نشے میں ڈوبے لوگوں کا شور،
رخصت ہونے والوں پر بہتے آنسو…
اور سینوں میں چھپی ٹوٹی ہوئی امیدیں،
محبت کے ملبے، عمر کے ملال…”
بستروں پر بسی عیاشی کی خوشبو،
راتیں بپھر کر ناچتی ہیں بھوکوں کے بیچ…
ایک بچہ، راتوں میں بے وطن،
بھٹک رہا ہے،
غائب ہو گیا اُن لوگوں کے سنگ جو خود گم ہیں…
بوڑھا، جسے زمانے نے ٹھکرا دیا،
ریتوں میں بکھر گئی اُس کی عمر،
اور وہ بس سناٹا ہے…
رات، جس نے ہمیں چاک کر دیا،
گویا ہم صرف جھکنے کے لیے پیدا ہوئے…
پھول، جو پہاڑیوں پر جھومتا رہا،
عاشقوں کے غم میں خاموش مر گیا…
اب کون کرے گا رحم اُن آنسوؤں پر؟
جو چلنے والوں کے قدموں میں کیچڑ بن گئے…
میں نے کہا آہستہ:
“صبر جمیل رکھو…”
تو راستے نے کہا:
“میں تو صبر کرنے والوں سے بھی مایوس ہوں…”
اِفری
![]()
