Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

ماں کی دُعا

کَئی بار سوچا ہے، مائیں کَب مَرتی ہیں؟
اِتنا ضَرور ہے، پَردہ تو سَب کَرتی ہیں۔

ماں ایک سَلیقَہ ہے، جینے کا طریقَہ ہے،
دُنیا میں بے ڈَھںگا کام کَب کَرتی ہیں؟

بَچے اگر بھُول بھی جائیں، گِلہ نہیں کَرتی،
بَچے کی اِک آہ پہ دُعائیں سَب کَرتی ہیں۔

چُپ چاپ سَہہ لیتی ہیں دُکھ ، کَرب کو،
ہَنستی ہیں دِل کے زَخم جَب بَھرتی ہیں۔

آنکھوں میں تھَکن ہو، بَدَن میں ہو کَمزُوری،
پِھر بھی وَہی کام گَھر کے سَب کَرتی ہیں۔

اِن کے قَدموں تَلے جَنّت کا مَسکن ہے،
پَر جَنّت سے بَڑھ کَر بھی مَحبّت کَرتی ہیں۔

رُوح کا رِشتہ میں نے کَئی بار دیکھا،
خَوابوں میں بھی پِیار کا دَم تَب بَھرتی ہیں۔

کَئی بار سوچا ہے، مائیں کَب مَرتی ہیں؟
ہَمیٖشہ دِلوں میں زِندہ ہی سَب رَہتی ہیں۔

افری

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *