جَہاں بھی لے چَلے تَجھے یہ دُنیا، مَت وہاں جانا
خُدی کی راہ پر چَلنا، یہ رَستَہ ہے، یہِی مانا
نہ حالاتِ جَہاں کی دھَار پر خُود کو بَہَا دینا
قَدَم اپنی سَمْت رکھنا، ہے یہِی جینے کا تَرانَہ
ہَمیشۂ یاد رکھنا تُم، کہ جِینے کو ہی آئے ہو
نہ یوں سَمْجھو کہ جِیتے ہو، فَقَط اِس واسطے جانا
خُدا نے بَخش دی ہے تُجھے ہِمّت، روشنی، جُرأت
یہِی سَرمائے سے مُمکن ہے، سَنْبھال سَپنا نِیآ لانا
اگر منزل نہ مِل پائے تو رَاستے کو بنا منزل
یہِی جِینے کا قَرینَہ ہے، یہِی دُنیا کا فَسانَہ
اَںدھیروں سے نہ ڈر جانا، چراغِ دِل جَلائے رَکھ
اُجالے باںٹنے ہی میں ہے اِنساں کا زمانَہ
یہِی حِکمت یہِی شعُور ہے، یہ اَصلِ زِندگی سَمْجھُو
کہ اِفری جِینا ہے کَرَم کا فَیض، نہ بے مَقْصَد بہانَہ
![]()

