Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem نظم

المیہ

چلتے ہیں ہم، زندگی کی راہوں میں بےخبر

نہ منزل کا پتہ ہے، نہ خود سے کوئی خبر

بھاگتے ہیں ان چیزوں سے جو پہچانی نہیں

ڈر لگتا ہے، مگر وجہ کچھ جانی نہیں

کرتے ہیں سب کچھ جو فرض ہے ہم پر

مگر جو دل چاہے، وہی چھپا ہے اندر

باتیں بہت ہیں، پر وہ بات نہیں کہی

جو دل میں ہے، وہ لبوں تک کبھی نہیں گئی

بھٹکتے ہیں قصوں میں جو بیت چکے

اور جیتے ہیں ان لمحوں میں جو ٹوٹ چکے

خواہشیں ہیں کچھ، جو دل میں بسی ہوئی

اور کچھ ہیں، جو چھوٹ گئیں، بےخبری میں کھوئی ہوئی

عادت ہو گئی ہے ہر دکھ کو سہنے کی

ہر زخم کو ہنسی میں کہنے کی

ہم جی رہے ہیں، پر خود کو کھو چکے

زندگی سے ملے، پر خود سے روٹھ چکے

اور اب…

اے آنے والے دنوں…

بس خامشی سے گزر جانا ہمارے پاس سے

ہمارے دل تھکے ہوئے ہیں، بہت آزردہ ہیں

تقدیروں نے توڑا ہے، دنوں نے زخمی کیا ہے

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *