Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

تیرے لیے

تیری آنکھوں کے لیے میرے پاس ایک وعدہ ہے
جسے میں پورا کروں گا اگر تو نے وفا کی۔
کتنا قریب ہے وہ لمحہ، جب میری آنکھوں نے
تیری آنکھوں کو دیکھا اور جھوٹ نہ بولا۔

تیری نگاہوں نے وہی نقشہ کھینچا
جو ہرنی کی آنکھوں میں نرمی اور شوخی سے ہوتا ہے
اور یوں ملاقات کے دن
فضل تیرے حُسنِ بیان کو حاصل ہوا۔

تیری نگاہ گویا اُس دن ہمیں بتا رہی تھی
ان سب مقتولوں کے نام،
جو تیری محبت کے ہاتھوں مارے گئے۔

تو ہی میرے دل کا سکون اور نعمت ہے
اور تو ہی اُس کا عذاب اور درد۔
دل میں تیری مٹھاس بھی ہے اور کڑواہٹ بھی
تو کتنی کڑوی ہے اور کتنی شیریں

میرے پاس شوق و محبت کے ایسے پیغام ہیں
جنہیں میں بیان نہیں کر سکتا
اگر نگران موجود نہ ہوتا
تو میں وہ سب تیرے لبوں تک پہنچا دیتا۔

محمد افراہیم بٹ ۔۔ افری

 

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *