تیری آنکھوں کے لیے میرے پاس ایک وعدہ ہے
جسے میں پورا کروں گا اگر تو نے وفا کی۔
کتنا قریب ہے وہ لمحہ، جب میری آنکھوں نے
تیری آنکھوں کو دیکھا اور جھوٹ نہ بولا۔
تیری نگاہوں نے وہی نقشہ کھینچا
جو ہرنی کی آنکھوں میں نرمی اور شوخی سے ہوتا ہے
اور یوں ملاقات کے دن
فضل تیرے حُسنِ بیان کو حاصل ہوا۔
تیری نگاہ گویا اُس دن ہمیں بتا رہی تھی
ان سب مقتولوں کے نام،
جو تیری محبت کے ہاتھوں مارے گئے۔
تو ہی میرے دل کا سکون اور نعمت ہے
اور تو ہی اُس کا عذاب اور درد۔
دل میں تیری مٹھاس بھی ہے اور کڑواہٹ بھی
تو کتنی کڑوی ہے اور کتنی شیریں
میرے پاس شوق و محبت کے ایسے پیغام ہیں
جنہیں میں بیان نہیں کر سکتا
اگر نگران موجود نہ ہوتا
تو میں وہ سب تیرے لبوں تک پہنچا دیتا۔
محمد افراہیم بٹ ۔۔ افری
![]()

