تھا کسی کی یاد کا پڑاؤ
گزری درد میں رات ساری
میں تنہا کھڑکی میں بیٹھا کر
تکتا رہا چاند دیر تک
جھونکا چلا سرد ہوا کا
تو کچھ دیر موندھ لیں آنکھیں
کھلی کھڑکی سے خوشبو آئی
دیکھا تو گلاب تھا رکھا ہوا
یادوں کے میٹھے زخم دل میں
چُپکے سے چھپے ہوئے پیار کے قصے
چاندنی نے لپیٹا مجھے اپنی بانہوں میں
اور ہوا نے سنبھالا خوابوں کے حصے
یادوں کے سائے دل کے آئینے میں
آج بھی کچھ تو رازِ وفا کے نشاں ہیں
گلاب کی خوشبو میں چھپی تھی وہ بات
جو نہ کہی گئی، مگر دل کے قریب رہی
وقت کی لہروں نے کچھ خواب بہا لیے
پر تیرا نقش قدم کبھی مٹا نہ سکا
دوریاں بھی جو آئیں، دل کے قریب رہیں
تیری یاد میں ہی جینے کا مزہ پایا
محبت کی زبان جو لفظوں سے آزاد رہی
دل کے ہر کونے میں اِفری تیرا نام رہ گیا
![]()