ہم نے اپنے دلوں کو خیالات کے نرم دریا میں ڈبو لی
جہاں ہر لہر میں امید کی روشنی تھی
مگر حقیقت کی تلخی نے ہمیں تھکا دیا
ہم نے اپنے اندر کی آواز کو سنا
لیکن پھر بھی ہم اُسے سمجھ نہ پائے۔
خوابوں کی پرچھائیاں ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ گئیں
یہ نہ تھا کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا تھا
بلکہ وہ خود مر گئے، ہمارے لمس سے
جیسے مٹی میں دفن ہوتے خوابوں کے رنگ
اور پھر ان کے پیچھے ہم، ایک کھوئے ہوئے سفر کی طرح
جہاں نہ منزل تھی، نہ کوئی نشان۔
ہاں، ہم نے حقیقت کا ذائقہ چکھا
اور اس میں ایسے کرب کا سامنا کیا
جو دل کے بوجھ کو بڑھاتا چلا گیا
پھر بھی ہم نے خیالات میں پناہ لی
کیونکہ وہی ہیں جو ہمیں جینے کی امید دیتے ہیں
لیکن خوابوں کے مرنے کے بعد
ہم نے خود کو گم پایا
خالی ہاتھ، دل میں ایک سوال
کیا ہم کبھی سچائی کو جان پائیں گے؟
یا ہمیشہ اسی خواہش میں مبتلا رہیں گے
کہ ہم حقیقت کے سمندر میں
خیالات کی کشتی پر سوار رہیں؟
![]()
