ہوا کا زور تھا طائر یہ پھڑ پھڑاتا رہا
فنا بھی ہوتا رہا راہ بھی دکھاتا رہا
فضا میں اُڑتے ہوئے آںکھ میں تھا ایک خَاب
نظر کا نُور بھی بُجھ کر تُجھے جگاتا رہا
گُزر گئے ہیں کئی کارواں صداؤں کے ساتھ
مگر سکوت دلوں کو بھی آزْماتا رہا
چمن میں فصلِ بہاراں تو لوٹ آئی مگر
گُلاب زخم کی خوشبو ہی دہراتا رہا
غریبِ شہر کی آںکھوں میں تھا سوالِ حیات
وُہ اپنی بھُوک کو حسرت میں چھپاتا رہا
وِصال خَاب کا شاید نصِیب سب کا نہ ہو
مُحِب جُدائی میں بھی یاد کو نبھاتا رہا
ؔاِفری کے لب پہ رہا حرفِ دل کا زیاں
وُہ اپنی بات کو ہس ہس کے بھُلاتا رہا
——
![]()

