زَبان؟
یہ فَقَط گوشت کا ٹُکڑا نہیں
یہ آئینہ ہے
جِس میں پورا اِنسان چُھپا ہوتا ہے۔
کسی دِن
جب لَفظ تُمہارے قابُو میں نہ رہیں
تو یاد رکھنا
زَخْم ہمیشہ ہاتھ سے نہیں
زَبان سے لگتا ہے۔
پرِندے پَرَوں سے نہیں
پھنسے ہوتے دام میں
وہ اپنے ہی پاؤں سے
جال کو چُھوتے ہیں
اپنی ہی بے خَبری سے
یا شاید کِسی دانۂ فَریب سے۔
اور اِنسان؟
وہ بھی شِکار ہوتا ہے
اپنی ہی زَبان کے طُفَیل
کبھی سَچ بول کر
خود کو تَنہا کر لیتا ہے
کبھی جُھوٹ بول کر
اپنی رُوح کو قَیدی بنا لیتا ہے۔
میں نے دیکھا ہے
لَفظوں کے بیچ چُھپے
خَنجَر
جو سُننے والے کے دِل میں پیوست ہوتے ہیں
اور بولنے والے کو بھی
خالی کر جاتے ہیں۔
زَبان، اگر چِراغ ہے
تو دُھواں بھی دے سکتی ہے
اور اگر تَلوار ہے
تو رَگِ جاں تک جا سکتی ہے۔
لہٰذا
کبھی کبھی
خاموشی ہی
اِنسان کی سب سے گہری دانائی ہوتی ہے۔
اِفری
![]()
