جو کرنا ہے لوگوں کا خیال کئے بغیر کرو! دل کی مانو لوگوں کے مشوروں پہ مت جاؤ
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلمیات کو مقدم رکھو!
اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو
حقیقت کا سامنا کرتےہوۓ مشکل کاموں کو سر انجام دو کیونکہ آسان کام تو ہر کوئی کر رہا ہوتا ہے۔ اپنے انتخاب کو بلند تر رکھو!
آج سے تقریبا بیس سال پرانا واقعہ شئیر کررہا ہوں۔
میں صبح سویرے گھر سے نکلا
چھٹی کا دن تھا پہلے بنک گیا ATM سے درھم نکلوا کر جیب میں رکھ لئے حالانکہ گاڑی میں پٹرول بھی موجود تھا لیکن جیب میں تقریبا چالیس درھم تھے جو صبح ناشتے کے لئے کافی تھے کیونکہ امارات میں ناشتہ ٹکا کر شکر کے ساتھ دس درھم میں ہو جاتا تھا۔
چلتے خیال آیا تو کیمرہ ساتھ رکھ لیا اور ناشتے کے بعد گاڑی موجودہ بوادی مال کی جانب ٹرک روڈ کی طرف موڑ دی کیونکہ وہاں پاکستانی کسی ریستوراں سے ناشتہ کرنا تھا پھر اس طرف جانا اس لئے بھی تھا کہ شاید کوئی اچھا منظر مل جاۓ اور میں جبل حفیت سے ہوتا ہوا گھر آ جاؤں گا۔ لہذا شاید کچھ اچھی۔ فوٹو بنانے کا موقعہ مل جاۓ۔ بقول قرآن:
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾
یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ۔
اس میں بھی گویا کوئی حکمت اور اللہ کا فضل شامل حال تھا کہ میری لانگ ڈرائیو کی سوچ بنی۔ اگرچہ ہر کوئی فوٹو گرافر نہیں ہوتا اس کے لئے بھی حسن نظر چاہئے ورنہ تو عام انسانوں کے لئے وہ عام سا منظر ہوتا ہے۔ جیسے کہتے ہیں ناں کہ کانچ اور ہیرا ایک جیسے ہی ہوتے ہیں مگر اس کی تصدیق جوہری ہی کر سکتا ہے۔
کیمرے کے پیچھے کی آنکھ منظر کو اس کے موضوع کے لحاظ سے دیکھ رہی ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کالج کے دنوں میں ایک دن دریا کی سیر کر کے لوٹ رہا تھا تو عجب منظر دیکھا جو ایک پڑھے ہوۓ شعر کی عکاسی کر رہا تھا
زیست کا احساس ڈرا دیتا ہے
ڈوبتے سورج پہ جب نظرجاتی ہے
عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت اور منظر کچھ یوں تھا کہ گاؤں کا قبرستان ! جھاڑے کی شام! برنے درخت پتوں کے بغیر اور پس منظر میں ڈوبتا سورج! فوٹو بنا کر اس پہ وہ شعر لکھا اور اپنی بیٹھک میں لٹکا دیا پھر جس نے دیکھا اس دنیا کی بے ثباتی کو آسانی سے سمجھ پایا۔ اس کے کئی مناظر فلم بند کرتا رہا گویا فطرت دربیت کر رہی تھی کہ وجدان کی صفائی اور آنکھ کے تجسس سے آیات الہی کے دید کا شعور پیدا ہو۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یٰقَوۡمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا مَتَاعٌ ۫ وَّ اِنَّ الۡاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴿۳۹﴾
اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے ( یقین مانو کہ قرار ) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے ۔
پھر قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ دنیا میں گھومو پھرو تاکہ پہلے والوں کے احوال جان سکو – اس سے جب اللہ کی آیات کھلیں گی حقیقت و قدرت دیکھ کر اللہ کا قرب اور شکر گزاری کا وصف پیدا ہوتا ہے۔
خیر میں ناشتہ کرنے کے بعد جیسے ہی گاڑی ویران راستے پر ڈالی تو دیکھا سخت گرمی میں دور کوئی شخص چل رہا تھا جی اس سڑک پہ ٹرک چلتے تھے اور چھوٹی گاڑیاں خال خال چلتی تھیں۔ ویسے بھی اسوقت شاید ساڑھے دس بج رہے تھے۔ منظر نظر آیا تو گرمی کی شدت میں مدد کی غرض سے گاڑی کی رفتار تیز کر دی اور چلتے ہوۓ ایک پٹھان بھائی سے ملاقات ہو گئی میں نے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا تو وہ پہلے انکاری ہوا تو میں نے اس پسینے سے شرابور کو پیار سے کہا یارا تیری وجہ سے تیز آیا ہوں اور بتا کہاں جانا ہے تو وہ بیٹھتے ہی رونے لگا کہ مجھے ابوظہبی جانے والے ٹرک روڈ پہ اتار دو۔ میں نے پانی پینے کو دیا تو اس نے بتایا ایک گھنٹے سے سخت دھوپ میں چل رہا تھا اور کوئی گاڑی بھی نہیں آ رہی اور اگر کوئی گزری تو وہ رکی نہیں۔ اداسی اور پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
میں نے پوچھا ناشتہ کیا تو بھی رونے لگا اس نے بتایا وہ کئی سالوں سے بلدیہ کے محکمہ میں ملازم تھا تنخواہ بھی ساڑھے تین ہزار تھی ۔ دوست بہت تھے اور ایک دوسرے سے لین دین چلتا رہتا تھا لکین نوکری ختم ہوئی تو ایک ہزار کی تنخواہ پہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرنے لگا۔
دوستوں سے رابطہ اسی طرح رہا مگر کل رات بھائی کا پشاور سے فون آیا کہ ماں کو فالج ہو گیا ہے لہذا جلدی سے پیسے بھیج دو۔ اس کے بقول اس کے ہانڈی والوں نے معذرت کر لی تو بمشکل پرانے دوستوں کے پاس رات گئے پہنچا تو ان سے پرانے تعلقات کی طرح مدعا بیان کیا تو سب نے عذر پیش کئے تو اس نے رات بڑے کرب میں گزاری اور صبح ان کو بتاۓ بغیر بظاہر جب سب سوۓ تھے وہ وہاں سے مایوسی میں نکل کر عازم سفر ہوا – لہذا ایک وہ ماں کی حالت سے ڈرا ہوا تھا اور دوسرا دوستوں سے شاکی جس کا وہ بار بار گلہ کر رہا تھا۔ اس کو اپنے ڈیرے پہ پہنچنے کی جلدی بھی تھی تاکہ گھر کا رابطہ وہاں پہ موجود فون پہ ہی تھا۔
مجھے بڑا احساس ہوا کہ ہمارے پشتون بھائیوں کی یکجہتی کی مثال دی جاتی تھی تو پھر یہ شخص کیوں نامراد جا رہا تھا۔ لیکن دنیا کا رواج بھی بظاہر ایسا ہی ہے کہ مشکل وقت میں کہتے ہیں “سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے”۔ پنجابی کا ایک گیت پے “خاناں دے خان پراونڑیں غریب دا کوئی یار نہیوں”۔ میں سمجھا اللہ نے مجھے اس طرف جانے کا پروگرام بنوا کر شاید میری ڈیوٹی لگائی تھی اور اس کی تیاری کر لوں۔
درد تو انسانوں کے سانجھے ہی ہوتے ہیں بس احساسات میں فرق ہوتا جو زیادہ تر اللہ کی توفیق پہ ہوتا ہے۔ حالانکہ بہت سارے لوگ باوجود طاقت حالات کا عذر پیش کرتے ہیں۔
میں نے اس کو اس کی فرمائیش کردہ جگہ پہ اتارہ اور احترام اسے گلے لگا کر سمجھایا کہ مایوسی کفر ہے اللہ اسباب پیدا کرے گا۔ پھر بنک سے نکلوائی رقم رول کر کے اس کی بغلی جیب میں ڈال کر کہا کہ جب تک میں یہاں سے چلا نہ جاؤں کھول کر مت دیکھنا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۹۲﴾
جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے ، اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ بخوبی جانتا ہے ۔
میں وہاں سے شکر کے ساتھ چلا تو آنسوں آنکھوں سے رواں تھے زمانے کا رویہ اور پھر اپنی مرحومہ ماں کی یاد آ رہی تھی جن کے علاج کے لئے میرے پاس اس وقت رقم موجود نہ تھی اور میں بھی اپنے کمرے میں آکر اپنی بےبسی پہ کھل کر چپکے چپکے روتا جس کی گواہ میری بیوی تھی۔ کسی کا درد دیکھیں تو اپنے پھٹ یاد آنے لگتے ہیں۔ اسی لئے میں کہہ رہا تھا کہ درد سانجھے ہوتے ہیں۔
خیر شکر کے لمحات میں احساس ہوا کہ سفر زیادہ کر لیا تھا لہذا ایک پیٹرول پمپ پہ رک گیا تاکہ پیٹرول لے لوں۔ جیسے ہی بریک لگائی ایک نوجوان جو مسقط عمان سے میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ وہ سیر کے لئے آۓ تھے تو پارک میں بیٹھے تو وہیں اپنا پرس گنوا آۓ تھے لہذا پیٹرول کی مدد چاہئے تھی تاکہ وہ قریبی سرحد عبور کرکے کوئی اسباب کر لیں گے۔ میں نے دس کا ناشتہ کیا تھا اب دس کا پیٹرول ڈالا بیس اس پردیسی کو دئیے اور حمد و شکر کے ساتھ دنیا کے حساب سے زیرو پاکٹ گھر لوٹا مگر جو سکون اور اطمینان دل کو تھا وہ نا قابل بیان تھا۔ اللہ نے ہمیں بتایا اور سکھایاہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾
ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔
صدق اللہ العظیم
یہ باتیں شئیر کرنے کا مقصد احساس پیدا کرنا ہے اور ترغیب دینا ہے بصد احترام ! کہ یہ دنیا فانی ہے، انسانوں کے حالات ایک جیسے نہیں رہتے اور پھر اللہ کے دیئے میں سے خرچ کرنا اور اللہ کر رضا میں راضی رہنا ہے بندگی ہے۔
2018طالب دعا : محمد افراہیم بٹ
![]()