Kheyal Darya

A mound of thoughts

URDU

بنا کر فقیروں کا بھیس

اپنی زندگی کے کچھ تجربات پیش ہیں
‎محبوب آپ کے قدموں میں:
‎پاکستان جاتا تو مزارات علامہ اقبال و سید علی ہجویری رحہ پہ پونے دو سو کلو میٹر کا سفر کر کے جہلم سے لاھور فاتحہ کے لئے حاضر ہوتا۔ایک دفعہ خیال آیا کیوں نہ لوگوں کے رویوں کا تجربہ کیا جاۓ۔میں نے داتا صاحب سے نکلتے ہوۓ جوتے بغل میں دبا لئے داڑھی بڑھی ہوئی تھی ایسے میں یوں ننگےپاؤں یادگار کی طرف چلنا شروع کر دیا تھا کیونکہ آگے چل کر اپنے شہر کے لئے ویگن میں سوار بھی ہونا تھا۔ تین
observations
‎شیئر کروں گا۔

۱- گرمی کے دن کچھ دیر چلنے کے بعد برُا حال ہوا کیونکہ ائیرکنڈیشن کی زندگی سے برعکس یہ معاملہ تھا خیر پاؤں مٹی سے بھر گئے “چہرہ بھی ہم چلےاس جہاں سے”
‎جیسا لگنے لگا تھا گھبراہٹ گرمی سے زیادہ گزرتے رکشوں کی وجہ سے تھی کیونکہ ان کی بدبُو سے دل بند ہونے کا ڈر لگنے لگتا۔ سوچتا لاھوریۓ کسے زندہ تھے ایسی گرد و گیس و بدبو کی آلودگی میں۔ ہنس کر سوچتا “نین ریساں لاھور دیاں”۔

میں نے بائیں جانب ٹھیلوں اور اسٹالوں کے درمیاں چلنا شروع کر دیا تو دیکھا کہ جوانوں کا ایک گروپ گنے کے رس کی ریڑھی پہ مزہ لی رہا ہے۔ میں جاکر کھڑا ہو گیا کچھ میرا حلیہ دیکھ کر ہنس دئیے
‎کسی نے دوسرے کو آہستہ سے کہا “جہاز” ہے جو اس وقت ٹرم پتہ نہیں تھی۔ جوانی کے قہقہے لیکن کسی نے مجھے آفر نہ کیا تو میں نے بڑےگلاس کا آڈر کر دیا ایک پیا تو دوسرے کا آرڈر کر دیا۔ جوس والے نے حقارت بھری نظروں سے دیکھا تو میں کہا میری جیب میں پیسے ہیں۔ ایک لڑکے نے آوازہ کسا “سائیں جی ایک ہی
‎کافی ہوتا ہے”۔ تو میں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ لڑکوں کی طرف اشارہ کرکے بتایا دوسرا گلاس تو میں کسی پیاسے کے لئے چھوڑ جاؤں گا مگر گنے کی اکڑ و تکبر ٹوٹتا دیکھنا چاہتا تھا “پھنس گئی جان شکنجے اندر” !

خیر میں اس سے آگے بڑھا تو دیکھا جو سڑک کنارے مداری تماشا کرتے ہیں کے مقصد اس کے علاوہ ہوتا ہے۔ جی دراصل ان کے دائرے میں ان کے ہی ایجنٹ ہوتے ہیں جو ان کے سوالوں کے جواب دیتے اور پھر ساتھی جیب کترے اس دوران ہی سادہ لوگوں کی جیبیں مارتے ہیں۔ بتاتا چلوں میں سوشیالوجی اور اکنامکس کا طالب علم ہوں۔ دائرے کے اندر جھانکنے کے بعد میں تماشا کچھ فاصلے پہ بیٹھ کر ہی دیکھتا اور کئی چور پکڑتا۔

اب میں آگے بڑھا تو دیکھا لکھا تھا “محبوب آپ کے قدموں میں/جادو کا توڑ وغیرہ”عمر رسیدہ زیادہ، چند عورتیں اور کچھ جوان اس “مشکل کُشا” کے ارد گرد جمع تھے۔ میں بھی سائلین کی صف میں بیٹھ گیا تو محسوس کیا سب فرآڈ ہو رہا تھا تو میں نے فقیرانہ انداز میں کہہ دیا “اُؤے حرام نہ کھا حلالی بنڑ” پھر کیا ہوا سب کی توجہ میری جانب ہو گئی گرمی اور مٹی پہ چلنے سے حلیہ تو ویسے کوالیفائی کر رہا تھا لوگ ڈر گئے کہ نیا فقیر آگیا میں اس وقت اس ٹوٹکے باز کی آنکھوں میں مسلسل دیکھتا رہا حتی کہ وہ بھی ڈر گیا اور لوگوں کو کہنے لگا آپ جائیں میں ذراحضرت صاحب کی خدمت کر لوں۔ لوگ ہٹے بھی کیا دور درختوں دیواروں کی
‎اوٹ سے جھانک رہے تھے لیکن ہمارا جلال زروں پہ تھا کہ وہ جادوگر الٹا میرے قدموں کو چومنے لگا اور روتے ہوۓ گویا ہوا “آپ کو یہ سب کیسے پتہ چلا” ! میں نے اسے ہٹاتے ہوۓ کہا تجھے کوئی حلال رزق کی دعوت دیتا تو پھر یہ سب کیوں کر رہا ہے؟

میں نے جلالی نظروں سے جوان کو بتایا ہے ہمت کرے تبھی اس کی دنیا محنت سے ہی بدلے گی (میں نے اپنے فرضی جملے کہے)
‎تو وہ دھاڑیں مار کر روتے ہوۓ بتانے لگا عشق میں ناکامی کے بعد تعویز کراۓ! سنیاسیوں کے پیچھے سندھ کے جنگلوں میں گھوما خدمت کی مگر محبوب نہیں ملا کیونکہ اس کئ شادی ہو کر اب بچوں والی ہو گئی تھی!

میں نے پھر جلالی آواز میں کہا تو تُو اللہ کی رضا میں راضی نہیں؟ جی جی کرکے بتانے لگا کہ وہ ایک
‎تاجر فیملی کا فرزند تھا مگر اس نے ڈھونگ عشق کے بھونڈے پن میں شاہ علم بازار میں کاروبار بھی پھونک دیا تھا اور ماں باپ بھی گنوا دئیے تھے۔ اب اسے بچپن کا دوست جوتوں کی دکان بناکر دینے کے کئے تیار تھا مگر اسے بہوؤں کے ستاۓ بوڑھے ساس سسر اور کمزور ایمان والے پریشان حال لوگ جو پچاس روپے تعویز میں حل ڈھونڈتے یا جوان محبوب
‎کو قابو کرنے آتے تھے چونکہ وہ ان کیفیات سے گزرا چکا تھا۔ یوں اس کی باتیں عاشقوں کی دلجوئی کرتیں اور وہ پیسے بٹورتا۔میں نے اسے کہا تو دوست کی بات مان اور کل سے یہ دوکان بند کرکے اپنی پہلی حالت یعنی راج والی کیفیت میں آ جاۓ گا۔ اس دوران وہ سر جھکاۓ مسلسل میرے گندے پاؤں پانی سے دھوتا صاف
‎کرتا اور روتا رہا پھر اس سے وعدہ لیکر میں نے اب دُھلے پاؤں سے جوتے پہنے اور ویگن آڈا کی طرف جلدی سے چل دیا کیونکہ آخری گاڑی کا وقت ہو رہا تھا۔ اس نے ساتھ چلنے کو کہا تو میں نے کہا میں مسافر ہوں میرا سفر مشرق ہے اور اس کی کامیابی مغرب کی طرف تھی یعنی جا اللہ کو راضی کر ! پھر مجھے یہ بھی ڈر تھاکہ اگر ساتھ آۓ گا تو میں راہ سے کچھ کھا پی نہیں سکوں جو ہم پردیسیوں کا شوق ہوتا ہے۔

یہ سب کسی واقعہ کی وجہ سے شیئر کیا ہے اور معاشرے کی بُنت اور نقشہ پیش کرنا بھی تھا۔ میں دیس پردیس ایسی حرکتیں تجرباتی اور رویوں کو پرکھنے کو کرتا رہتا ہوں۔ اللہ ہم سب کو خیر اور پکا ایمان دے۔ امین

( محمد افراہیم بٹ۔ الصفاٰدبئی (۲۰۱۲)

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *