مستی میں تھا وہ سچائی سمجھا نہیں
میرے لہجے کی گہرائی سمجھا نہیں
نابینا تھا وہ دُنیا کی طلب میں اتنا
کیا ہے دل کی بینائی سمجھا نہیں
مر رہے ہیں روٹی کو ترستےہیں لوگ
امیرِ وطن ابھی نوحۂ مہنگائی سمجھا نہیں
بیچ دیا ہے وطن سارا غیر کے ہاتھ
سیاست کرتا ہے رسوائی سمجھا نہیں
ہم خانہ بردوش ہیں دنیا میں ایسے
شہر بدلے مگر کہیں کوئی شناسائی نہیں
افری
![]()

