زندگی کا فلسفہ اور تیزی سے گرتی ہوئی اقدار
قسط 41
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں اخلاقی، سماجی اور مذہبی اقدار اپنی اصل پہچان کھوتی جا رہی ہیں۔ 21ویں صدی میں جہاں دنیا جدیدیت کے نام پر تیزی سے بدل رہی ہے، وہیں ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرتی توازن بگڑ چکا ہے۔ عزت اور ایمان کے مالک اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں، اور بدمعاشوں کو گلے لگانا جیسے ایک مجبوری بن چکا ہے۔
میں کبھی جب اسلامی، وطن کی حالت زار یا کسی بھی اخلاقی، معاشرتی اور انسانی پہلو پر لکھو ں تو بہت کم لوگ پڑھتے اور حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ، لیکن اس کے علاوہ دیگر صورتوں میں دوست احباب کے بہت سارے دل اور انگوٹھے نظر آنے لگتے ہیں۔
میرا لکھتے وقت کبھی یہ خیال نہیں رہا کہ ستائش کی ضروت تھی بلکہ ساری کوشش کسی نکتہ کو اجاگر کرنا ہے تاکہ احساسِ زیاں یا زمہ داری پیدا کی جاۓ لیکن ہماری قوم سراہنے اور چند کلمات لکھنے پر بھی بخل سے کام لیتے ہوۓ آمادہ نہیں ہوتی! یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ مین مختلف تجربات کرکے لوگوں کے رویے دیکھتا ہوں۔
میں نے سوچا اس پر بھی کچھ لکھ کر اہلِ دانش و فکر دوستوں سے کچھ درد بانٹا جاۓ کیونکہ ہم کوئی مسندِ اقتدار پر بیتھے نہیں بلکہ وہ مغموم اور پریشان بُلبلیں جو گلشن کو اجڑتا دیکھ کر درد بھری صداؤں سے احساس دلاتے ہیں۔ ہم “توبہ” کے سلسلہ میں کیا گیا وہ “دیوانہ” کردار ہیں جو مست و موجی ماحول میں توبہ کرکے اللہ پر بھروسہ و ایمان مضبوط کرتے ہیں، شکر اس ربِ عظیم و حی و قیوم کا جس ہمیشہ پردہ پوشی کی ہے!
جن اقدار کے زوال کی عالمی سطح پر بات کر رہا ہوں ، پاکستانی معاشرہ بھی اس اور بھی زیادہ تیزی سے زوال کا شکار ہے۔ جیسے دیمک اندر سے اور ناساز موسم باہر سے مشکل پیدا کئے ہوے ہیں۔ وہ نوجوان جو کبھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، آج خود بے چینی، مایوسی اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔ وہ جو ساحلوں ، چوری ڈکیتیوں اور منشیات کے نشے میں چوک چوراہوں ہر لت ہت پڑے نظر آتے ہیں۔
آج بیس سال کا نوجوان موت کی دعا کر رہا ہے، اور بچیاں اپنے محبوب کی جدائی پر آنسو بہا رہی ہیں۔ بے حیائی کو جدیدیت اور آزادی کا نام دے دیا گیا ہے، اور غیرت جیسا جذبہ اب محض ایک کہانی لگنے لگا ہے۔
شادی جو کبھی ایک پاکیزہ رشتہ اور سماجی استحکام کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، اب مہنگائی اور بےحسی کے باعث ایک ناکام منصوبہ بن چکا ہے۔ کنوارے لڑکے لڑکیوں، طلاق اور بیوہ عورتوں کی بڑھتی تعداد دیکھو تو ڈر لگنے لگتا ہے۔ اب رشتے معاشرتی اور مذہبی فریضہ سمجھ کر نہیں ہوتے بلکہ تجارتی پیکج کی صورت ہو رہے ہیں جن کا نےیجہ کچھ اچھا نہیں کچہریوں کے باہر قطارین دیں دیکھ لیں۔ اب یورپی طرز پر نوجوان حلال رشتوں سے ڈرتے یا دور ہونے لگے ہیں، لیکن حرام راستے اختیار کرنے میں کسی جھجک کا شکار نہیں ہوتے۔
پاکستانی معاشرے میں بھی یہ مسئلہ واضح طور پر نظر آتا ہے جب ہم سوشل میڈیا پر دیکھتے یا کرائم رپورٹ پڑھتے ہیں یا فارم ہاؤسسز میں مخلوط شباب و کباب کی محفلوں کے چرچے سُنتے ہیں شاید زنا جیسی برائی کو آسان اور عام بنا دیا گیا ہے، جبکہ نکاح کو مشکل اور غیر ضروری سمجھا جانے لگا ہے۔ جدیدیت کے نام پر بے پردگی، بے حیائی اور بے راہ روی کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور جو شخص دین اور اخلاقیات کی بات کرے، اسے دقیانوسی قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہاں تک کہ دین کے مراکز، مساجد اور مدارس جو کبھی علم اور ہدایت کے مراکز تھے، اب ان کی عزت و وقار کم ہو گئی ہے۔ کئی رپورٹس دیکھیں جہاں مساجد و مزارات پر فلمین اور مختلف فوٹو گرافی کے مارکیٹنگ کے لحاظ سے ایونٹ منعقد ہوۓ، نوجوانوں کی توجہ سوشل میڈیا، بے مقصد مواد اور غیر سنجیدہ مشاغل کی طرف زیادہ ہو گئی ہے۔ جس میں پیکج دینے والی کمپنیوں کا ہاتھ اور اس میڈیم کا منفی استعمال بھی ہے،سوچیں یہ وہی معاشرہ ہے جہاں پیزا اور برگر آرڈر کرنا ایمبولینس بلانے سے زیادہ آسان اور تیز ہے۔
معاشرتی رویے اتنے بدل چکے ہیں کہ جو شخص کسی کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے، اسے حسد کرنے والا یا دشمن سمجھا جاتا ہے۔
منافقت اور چاپلوسی کو سچائی اور دوستی کا معیار بنا دیا گیا ہے۔ پیسہ، خواہ غیر قانونی ذرائع سے ہی کیوں نہ کمایا گیا ہو، عزت و وقار کا پیمانہ بن چکا ہے، اور خاندان، رشتے اور اخلاقیات کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔
معاشرتی زوال کے یہ آثار ہر جگہ نمایاں ہیں:
• مذہبی کرپشن
• تعلیمی کرپشن
• اخلاقی کرپشن
• صحت کا کرپشن
• اور سماجی کرپشن
یہ گرتی ہوئی قدریں ہمیں اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ہم بحیثیت انسان یا قوم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں اپنی نسلوں کے لیے کیسا معاشرہ چھوڑ کر جانا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جدیدیت اور ترقی کا مطلب بے راہ روی نہیں، بلکہ اخلاقیات، دین اور سماجی اقدار کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اگر آج ہم نے اس زوال کو نہ روکا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ بلکہ گالیاں دے کر بھُلا دیں گی۔
آئیں اپنے اپنے حصہ کی زمہ داری لیں چاہے گھر کے اندر کی، محلہ کی، گاؤں، سکول یا شہر کی اور اجتماعی طور پر ملک اور پھر دُنیا کی اصلاح کا فریضہ انجام دیں۔
اللہ کرے ہم اپنے صالحینِ امت سے سیکھیں۔ بقول اقبال رح
سبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخُوّت کی جہاںگیری، محبّت کی فراوانی
بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی
میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک!
ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہستانی
گمان آبادِ ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قِندیلِ رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فقرِ بُوذرؓ، صِدقِ سلمانیؓ
ہُوئے احرارِ مِلّت جادہ پیما کس تجمّل سے
تماشائی شگافِ در سے ہیں صدیوں کے زِندانی
ثباتِ زندگی ایمانِ مُحکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تُورانی
جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیدا
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زور بازو کا!
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
ولایت، پادشاہی، علمِ اشیا کی جہاںگیری
یہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریں
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہَوس چھُپ چھُپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہے
حذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں
حقیقت ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نُوری ہو
لہُو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چِیریں
یقیں محکم، عمل پیہم، محبّت فاتحِ عالم
جہادِ زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
شکریہ۔۔۔
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ۔ الامارات۔
![]()


