قسط 47
(ایک ویڈیو میں دو مینڈھے ٹکراتے دیکھ بیان کر دیا ہے، یاد رکھیں:
“دُنیا میں ہر واقعہ ہماری راہنمائی کے لئے رونما ہوتا ہے۔ “افری)
زندگی، کائنات کا سب سے پیچیدہ مگر بامعنی مظہر ہے، جو مسلسل ارتقاء پذیر ہے۔ اس کی بنیاد حکمت، تدبر اور فطرت کے قوانین کی پاسداری پر ہے۔ انسان، اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے، اس دنیا کا وارث ہے، لیکن جب وہ فطرت کے قوانین سے ہٹ کر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتا ہے، تو تباہی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
یہ فلسفۂ زندگی نہ صرف افراد پر لاگو ہوتا ہے بلکہ اقوام پر بھی۔ ایک قوم کا عروج و زوال اس کے رہنماؤں کی حکمت، بصیرت اور خود غرضی سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کے لیے کام کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔ لیکن افسوس، ہمارے ملک میں ایسا نہیں۔
پاکستان کی سیاست اور قیادت پر ایک نظر ڈالیں، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے خود پر ایسے “مینڈھے لیلے” لیڈرز مسلط کر رکھے ہیں، جو نہ فطرت کے اصولوں کو سمجھتے ہیں، نہ اجتماعی بھلائی کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا عمل ایک ویڈیو میں دکھائے گئے دو مینڈھوں سے مختلف نہیں، جو فطرت سے مجبور ہو کر دور سے دوڑتے ہیں اور آپس میں ٹکریں (دِگیں) مارتے ہیں۔ یہ ٹکراؤ ان کی فطری جبلت کا حصہ ہے، مگر بار بار یہی عمل انہیں بالآخر زمین پر گرا دیتا ہے۔ بعض اوقات تو قصائی کو مجبوری میں چھری چلانا پڑتی ہے۔
ہمارے “مینڈھے لیلے” لیڈرز بھی اپنی فطرت سے مجبور ہیں۔ ہر موقع پر اپنی ذاتی انا، طاقت کی ہوس اور اقتدار کے کھیل میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کے فیصلے نہ صرف عوام کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ جیسے مینڈھے بار بار ٹکرانے کے بعد گھٹنے ٹیک کر تھوڑی دیر رک جاتے ہیں، یہ لیڈرز بھی اپنی ناکامیوں کے بعد وقتی طور پر رک جاتے ہیں، لیکن پھر دوبارہ اسی روش پر چل نکلتے ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے جب کوئی “قصائی” یعنی بیرونی طاقت، ان کے مسلسل ٹکراؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کے لیے مداخلت کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کے رہنما اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوں اور اپنی قوم کو تقسیم اور کمزوری کی راہ پر ڈالیں، تو بیرونی عناصر اس کا فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں کرتے۔
زندگی کے فلسفے میں ایک اصول واضح ہے: تیسری غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ قوموں کی تقدیر کا فیصلہ ان کے رہنما کرتے ہیں، اور اگر رہنما بار بار ایک ہی غلطی دہراتے رہیں تو انقلاب آنا لازمی ہے۔ یہ انقلاب کبھی عوام کے شعور سے جنم لیتا ہے، کبھی قدرت کے قوانین کے تحت، اور کبھی بیرونی مداخلت کے ذریعے۔
ہمیں اس نازک موڑ پر اپنی سمت درست کرنی ہوگی۔ “مینڈھے لیلے” لیڈرز کو پہچاننا اور ان سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے، کیونکہ تیسری ٹکر کے بعد ہمیشہ اندھیرا ہوتا ہے۔ ہمیں وہ روشنی بننا ہوگا جو خود اپنے راستے کا تعین کرے، فطرت کے اصولوں کو سمجھے اور عمل میں لائے، تاکہ ہم اپنی تقدیر کو اپنے ہاتھوں میں لے سکیں۔
یہی زندگی کا فلسفہ ہے، یہی قوموں کا سبق، اور یہی ہماری بقا کی کنجی ہے۔ لیلے اور مینڈھے بننے سے پرہیز کریں۔
شکریہ ۔۔۔۔۔
دُعاؤں کا طالب : محمد افراہیم بٹ۔ الامارات۔
6/2/2025
![]()