Kheyal Darya

A mound of thoughts

نظم

Poem نظم

مجھے میرا پاکستان چاہئے 3

مجھے میرا پاکستان چاہئے مجھے میرا پاکستان چاہئےجہاں دل کی دھڑکن میں ایمان ہو جہاں پہلی صدا تھی “اللہ اکبر”جہاں لا اِلٰہَ کی پہچان ہو وہی خواب تھا خون سے لکھ گیاوہی عہد شہیدوں کا فرمان ہو جہاں امن ہو،…

Loading

Poem نظم

تیرا ذکر کیے بغیر

کیسے مناؤں اس خط کوکہ جب سطر پر جھکےتو لفظوں کے بیچ سےتیری خوشبو اُٹھنے لگے کاغذ کے باریک ریشےتیری سانسوں کا لمس بن جائیں،اور ہر جملہمیرے دل کی دھڑکن جیسا لگے۔ میں تیرا نام نہ لکھوںاور پھر بھی ہر…

Loading

Poem نظم

مجھے میرا پاکستان چاہئے

مجھے میرا پاکستان چاہئے! وہ نعرہ جو پہلی بار گونجا تھا، جب زمین نے آسمان سے کہا “لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ” میں نے خواب دیکھا تھا، ایک وطن جہاں اسلام قانون ہو، جہاں ہر نفس چراغ کی مانند محفوظ ہو،…

Loading

Poem نظم

اُمید کی زَنجِیر

مَیں نے دیکھی ہے أُن نِگاہوں میں جَمی ہُوئی پِیاس جَو اِنسانوں سے آس لَگاتی ہیں أور جَب خَواب ٹُوٹتے ہیں تَو خاموشی کے نیچے أیْک چیخ دَفن ہو جاتی ہے۔ مَیں نے سُنا ہے دھڑکنوں میں لَرْزتے ہُوئے وُہ…

Loading

Poem Poetry نظم

نظم 

رونے والی بات پہ بھی مَیں روتا نَہیںروتا ہے سارا بَدَن، اِفری، اَکھِیوں کے سِوا خواب جو بکھرے ہیں پَلکوں پر ٹُوٹ کرچُھپتے ہیں دَردِ دِل کے، سَناٹے کے سِوا رات کے سَناٹے میں صَدا تیری سُن کےہَلکی سی لَرزِش…

Loading

Poem نظم

سوچنے کی بات

سوچنے کی بات سمندر کا اصول ہے کہ وہ مچھلی جو اپنا منہ بند رکھے، کبھی تیر نہیں سکتی۔یہی حال زندگی کا ہے؛ ماں بھی بچے کے رونے پر ہی دودھ دیتی ہے۔ پھر ہم کیوں یہ گمان کرتے ہیں…

Loading

Poem نظم

ہم کہاں سے کہاں آ گئے

ہم کہاں سے کہاں آ گئے ہم سب نے زندگی ایک پرانے پنکھے سے شروع کی تھی جس کے نیچے پورا گھر سوتا تھا۔ برف دو روپے کی آتی کولر میں ڈال کر دن گزارا جاتا کبھی ہمسائے سے برف…

Loading

Poem نظم

غُلام بَسْتی میں آزادی کا خواب 2

غُلام بَسْتی میں آزادی کا خواب مَیں نے ایک بَسْتی دیکھی جہاں اِنسانوں کی رِیڑھ کی ہَڈیخَوف کی مِٹّی سے بَنائی جاتی ہے،جہاں سوچنے کے لیے اِجازَتاور بولنے کے لیے سَر جُھکانا شَرْط ہے! وہاں نِیند…حاکِم کی مَرْضی سے آتی ہے،اور…

Loading

Poem نظم

اِختِیار R

رہو راضی با رَضا کُچھ نہیں ہے اِختِیار مِیں اِک دَائِرے کا سفر چھُپَا ہے فَقَّط نوکِ پَرکَار مِیں کَشّمکَشِّ حیات سے وہاں بِھی امَاں ناں مِلی سُنا تھا بڑی راحتَیں ہیں سایَۂِ زُلفِ یار مِیں میری غُربَتّ ہی مِیرا…

Loading