Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem

Poem Poetry نظم

نظم 

رونے والی بات پہ بھی مَیں روتا نَہیںروتا ہے سارا بَدَن، اِفری، اَکھِیوں کے سِوا خواب جو بکھرے ہیں پَلکوں پر ٹُوٹ کرچُھپتے ہیں دَردِ دِل کے، سَناٹے کے سِوا رات کے سَناٹے میں صَدا تیری سُن کےہَلکی سی لَرزِش…

Loading

Poem نظم

سوچنے کی بات

سوچنے کی بات سمندر کا اصول ہے کہ وہ مچھلی جو اپنا منہ بند رکھے، کبھی تیر نہیں سکتی۔یہی حال زندگی کا ہے؛ ماں بھی بچے کے رونے پر ہی دودھ دیتی ہے۔ پھر ہم کیوں یہ گمان کرتے ہیں…

Loading

Poem نظم

ہم کہاں سے کہاں آ گئے

ہم کہاں سے کہاں آ گئے ہم سب نے زندگی ایک پرانے پنکھے سے شروع کی تھی جس کے نیچے پورا گھر سوتا تھا۔ برف دو روپے کی آتی کولر میں ڈال کر دن گزارا جاتا کبھی ہمسائے سے برف…

Loading

Poem نظم

غُلام بَسْتی میں آزادی کا خواب 2

غُلام بَسْتی میں آزادی کا خواب مَیں نے ایک بَسْتی دیکھی جہاں اِنسانوں کی رِیڑھ کی ہَڈیخَوف کی مِٹّی سے بَنائی جاتی ہے،جہاں سوچنے کے لیے اِجازَتاور بولنے کے لیے سَر جُھکانا شَرْط ہے! وہاں نِیند…حاکِم کی مَرْضی سے آتی ہے،اور…

Loading

Poem

اذنِ سفر

اذنِ سفر شام ہونے کو ہے…اداسیوں کے موسم میں،روح کا زخمی، اداس پنچھیاپنے ماحول سے اکتا کرکبھی کبھی اذنِ سفر مانگتا ہے۔ جیسے تپتے ہوئے صحرا کا مسافربگھولوں کی دہشت سے گھبرا کر،سرابوں کے بے رحم سمندر سےکسی گھنے پیڑ…

Loading

Poem

گرگِ آتشی

چلو جوانو میں بوڑھا ہو گیا ہوں، آؤ، مل کر “گرگِ آتشی” کھیلتے ہیں۔ آ جاؤ، بناؤ دائرہ سردی بڑھ رہی ہے اور دور تک، تمہارے لیے کوئی شکار بھی نہیں۔ چلو، میں تیار ہوں کھیلنے کے لیے۔ دیکھو، میری…

Loading

Poem

اُداس نسلوں کی خاموش صدا

خیال سمندروں میں ڈوبتے نوجوانوں کے متعلق انٹرویوز سُننے کے بعد اُن کی آخری صداؤں کا منظر اُداس نسلوں کی خاموش صدا فریب کی گرد میں پلتی رہیں یہ اُداس نسلیں، جو جلتی رہیں پاگل خانے کی خامشی میں قید…

Loading

Poem

جیون لِپی

کہانی پہلوں رچی ہوئی سی ہر شے ایویں گُندھی جیویں وقت نے صدیاں پہلوں اس دا تانا بانا بُن رکھیا ہووے۔ رنگ پہلوں ای کینوس تے وسے پئے سن، میں تاں اک جھات مار کے منظر ویکھ لیا۔ میری آکھ…

Loading

Poem

نثری نظم خودی

خودی ایک آگ ہے، جسے بجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ وہ روشنی ہے، جو کبھی ماند نہیں پڑتی۔ یہ ایک خواب ہے، جسے تعبیر کی قید میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ یہ وہ جام ہے، جو تشنگی تو دیتا ہے،…

Loading

Poem نظم

اِختِیار R

رہو راضی با رَضا کُچھ نہیں ہے اِختِیار مِیں اِک دَائِرے کا سفر چھُپَا ہے فَقَّط نوکِ پَرکَار مِیں کَشّمکَشِّ حیات سے وہاں بِھی امَاں ناں مِلی سُنا تھا بڑی راحتَیں ہیں سایَۂِ زُلفِ یار مِیں میری غُربَتّ ہی مِیرا…

Loading