سوچنے کی بات
سوچنے کی بات سمندر کا اصول ہے کہ وہ مچھلی جو اپنا منہ بند رکھے، کبھی تیر نہیں سکتی۔یہی حال زندگی کا ہے؛ ماں بھی بچے کے رونے پر ہی دودھ دیتی ہے۔ پھر ہم کیوں یہ گمان کرتے ہیں…
![]()
ہم کہاں سے کہاں آ گئے
ہم کہاں سے کہاں آ گئے ہم سب نے زندگی ایک پرانے پنکھے سے شروع کی تھی جس کے نیچے پورا گھر سوتا تھا۔ برف دو روپے کی آتی کولر میں ڈال کر دن گزارا جاتا کبھی ہمسائے سے برف…
![]()
غُلام بَسْتی میں آزادی کا خواب 2
غُلام بَسْتی میں آزادی کا خواب مَیں نے ایک بَسْتی دیکھی جہاں اِنسانوں کی رِیڑھ کی ہَڈیخَوف کی مِٹّی سے بَنائی جاتی ہے،جہاں سوچنے کے لیے اِجازَتاور بولنے کے لیے سَر جُھکانا شَرْط ہے! وہاں نِیند…حاکِم کی مَرْضی سے آتی ہے،اور…
![]()
اُداس نسلوں کی خاموش صدا
خیال سمندروں میں ڈوبتے نوجوانوں کے متعلق انٹرویوز سُننے کے بعد اُن کی آخری صداؤں کا منظر اُداس نسلوں کی خاموش صدا فریب کی گرد میں پلتی رہیں یہ اُداس نسلیں، جو جلتی رہیں پاگل خانے کی خامشی میں قید…
![]()
نثری نظم خودی
خودی ایک آگ ہے، جسے بجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ وہ روشنی ہے، جو کبھی ماند نہیں پڑتی۔ یہ ایک خواب ہے، جسے تعبیر کی قید میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ یہ وہ جام ہے، جو تشنگی تو دیتا ہے،…
![]()
اِختِیار R
رہو راضی با رَضا کُچھ نہیں ہے اِختِیار مِیں اِک دَائِرے کا سفر چھُپَا ہے فَقَّط نوکِ پَرکَار مِیں کَشّمکَشِّ حیات سے وہاں بِھی امَاں ناں مِلی سُنا تھا بڑی راحتَیں ہیں سایَۂِ زُلفِ یار مِیں میری غُربَتّ ہی مِیرا…
![]()