اُمید کی زَنجِیر
مَیں نے دیکھی ہے أُن نِگاہوں میں جَمی ہُوئی پِیاس جَو اِنسانوں سے آس لَگاتی ہیں أور جَب خَواب ٹُوٹتے ہیں تَو خاموشی کے نیچے أیْک چیخ دَفن ہو جاتی ہے۔ مَیں نے سُنا ہے دھڑکنوں میں لَرْزتے ہُوئے وُہ…
![]()
حکایت 8 (ناقابل جواب سلام)
ناقابل جواب سلام شام کا وقت تھا۔ غروب آفتاب کی سنہری کرنیں دیواروں پر بکھر رہی تھیں اور ہلکی ہلکی شام کی ہوائیں فضا کو سہلا رہی تھیں۔ چھوٹا آدم اپنے والد کے ہمراہ کچھ خریداری کے لیے نکلا۔ جب…
![]()
آوارہ خیال
آوارہ خیال میں نے کبھی کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو عورت کی توہین میں لذت پاتا ہو، مگر یہ کہ وہ خود مردوں کے درمیان ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ اِفری
![]()
سوچنے کی بات
سوچنے کی بات سمندر کا اصول ہے کہ وہ مچھلی جو اپنا منہ بند رکھے، کبھی تیر نہیں سکتی۔یہی حال زندگی کا ہے؛ ماں بھی بچے کے رونے پر ہی دودھ دیتی ہے۔ پھر ہم کیوں یہ گمان کرتے ہیں…
![]()
ہم کہاں سے کہاں آ گئے
ہم کہاں سے کہاں آ گئے ہم سب نے زندگی ایک پرانے پنکھے سے شروع کی تھی جس کے نیچے پورا گھر سوتا تھا۔ برف دو روپے کی آتی کولر میں ڈال کر دن گزارا جاتا کبھی ہمسائے سے برف…
![]()
جوش و جذبہ
جنون ، شوق ،جوش اور جذبہکبھی پابندِ سلاسل نہیں ہوتایوسف بھی زنداں میں ڈالے گئےجبر کا موسم تو مسلسل نہیں ہوتایقینِ ابراہیم سےآگ گلزار ہوئیکسی حال مومن بیکل نہیں ہوتالا الہ الا انت کا ورد لازم ہےیونس ہود سے بھی…
![]()
My Village
In the desolate lanes of the village We wander, the eccentric souls Weathered have become all the doors and walls The old souls have faded into the earth’s folds High-pitched voices and loud echoes Now rise from those who seek…
![]()