Kheyal Darya

A mound of thoughts

Soul

Poem نظم

اُمید کی زَنجِیر

مَیں نے دیکھی ہے أُن نِگاہوں میں جَمی ہُوئی پِیاس جَو اِنسانوں سے آس لَگاتی ہیں أور جَب خَواب ٹُوٹتے ہیں تَو خاموشی کے نیچے أیْک چیخ دَفن ہو جاتی ہے۔ مَیں نے سُنا ہے دھڑکنوں میں لَرْزتے ہُوئے وُہ…

Loading

Poem Poetry نظم

نظم 

رونے والی بات پہ بھی مَیں روتا نَہیںروتا ہے سارا بَدَن، اِفری، اَکھِیوں کے سِوا خواب جو بکھرے ہیں پَلکوں پر ٹُوٹ کرچُھپتے ہیں دَردِ دِل کے، سَناٹے کے سِوا رات کے سَناٹے میں صَدا تیری سُن کےہَلکی سی لَرزِش…

Loading

Poetry غزلیات

غزل

جہاں میں جو بھی نُور و جَمال ہے وُہ سب حقیقت میں اُس کا وِصال ہے دِل کی گہرائیوں میں جو چَمک رَہا وُہی رَوشنی ہے، وُہی اِک جَمال ہے خاموشیوں میں بھی اِک صَدا سُنی ہے جو دِل کو…

Loading

حکایاتِ افراہیم

حکایت 8 (ناقابل جواب سلام)

ناقابل جواب سلام شام کا وقت تھا۔ غروب آفتاب کی سنہری کرنیں دیواروں پر بکھر رہی تھیں اور ہلکی ہلکی شام کی ہوائیں فضا کو سہلا رہی تھیں۔ چھوٹا آدم اپنے والد کے ہمراہ کچھ خریداری کے لیے نکلا۔ جب…

Loading

Thoughts and Reflections

آوارہ خیال

آوارہ خیال میں نے کبھی کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو عورت کی توہین میں لذت پاتا ہو، مگر یہ کہ وہ خود مردوں کے درمیان ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ اِفری

Loading

Poem نظم

سوچنے کی بات

سوچنے کی بات سمندر کا اصول ہے کہ وہ مچھلی جو اپنا منہ بند رکھے، کبھی تیر نہیں سکتی۔یہی حال زندگی کا ہے؛ ماں بھی بچے کے رونے پر ہی دودھ دیتی ہے۔ پھر ہم کیوں یہ گمان کرتے ہیں…

Loading

Poem نظم

ہم کہاں سے کہاں آ گئے

ہم کہاں سے کہاں آ گئے ہم سب نے زندگی ایک پرانے پنکھے سے شروع کی تھی جس کے نیچے پورا گھر سوتا تھا۔ برف دو روپے کی آتی کولر میں ڈال کر دن گزارا جاتا کبھی ہمسائے سے برف…

Loading

Poem

اذنِ سفر

اذنِ سفر شام ہونے کو ہے…اداسیوں کے موسم میں،روح کا زخمی، اداس پنچھیاپنے ماحول سے اکتا کرکبھی کبھی اذنِ سفر مانگتا ہے۔ جیسے تپتے ہوئے صحرا کا مسافربگھولوں کی دہشت سے گھبرا کر،سرابوں کے بے رحم سمندر سےکسی گھنے پیڑ…

Loading

Poetry نظم

جوش و جذبہ

جنون ، شوق ،جوش اور جذبہکبھی پابندِ سلاسل نہیں ہوتایوسف بھی زنداں میں ڈالے گئےجبر کا موسم تو مسلسل نہیں ہوتایقینِ ابراہیم سےآگ گلزار ہوئیکسی حال مومن بیکل نہیں ہوتالا الہ الا انت کا ورد لازم ہےیونس ہود سے بھی…

Loading

English Poetry

My Village

In the desolate lanes of the village We wander, the eccentric souls Weathered have become all the doors and walls The old souls have faded into the earth’s folds High-pitched voices and loud echoes Now rise from those who seek…

Loading