اُمید کی زَنجِیر
مَیں نے دیکھی ہے أُن نِگاہوں میں جَمی ہُوئی پِیاس جَو اِنسانوں سے آس لَگاتی ہیں أور جَب خَواب ٹُوٹتے ہیں تَو خاموشی کے نیچے أیْک چیخ دَفن ہو جاتی ہے۔ مَیں نے سُنا ہے دھڑکنوں میں لَرْزتے ہُوئے وُہ…
![]()
غزلGhazal R eng
“پَر کھُلیں تو مِری اُڑان کھُلے” شَوقِ پَروَاز سے جَہان کھُلے نوچ کَر خُود کو بے پَر کر لِیا میں نے پِنجَرِے کو نیا گھر کر لِیا میں نے صَحرَا میں پیاس مِٹا لی دیدَہءِ تر سے یُوں سَرابوں کو…
![]()
دو اجنبی ایک آجنبی شہر میں
چند سال ہوۓ ایک کمپنی کےلائسنس کی تجدید کرانا تھی تین دن کی چھٹی لے کر بیگ گلے میں ڈالا اور مطار اسلام آباد سے ٹیکسی پکڑ کرسیدھا امیگریشن بیورو کے سامنے سات بجے فٹ پاتھ پہ لگی ناشتے کی…
![]()
Was’aal (Meeting again)
Oh, behold the whirlwind and radiant glow, Imprinted deep within my soul, they flow. The sight stood still, frozen in time’s embrace, Regret’s whispers mingling with the breeze’s trace. An atmosphere of torment and melancholy, As agony and longing danced…
![]()