Kheyal Darya

A mound of thoughts

URDU

تھُور بوٹے

اللہ نے تھُور کا بوٹا بھی عجیب بنایا ہے ۔ کانٹوں سے بھرا مگر ایسے ایسے رنگ جماۓ کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ہم سبحان اللہ کہے بغیر رہ بھی نہ سکے۔ پھر اس کے فوائد اتنے کہ شمار میں نہ آئیں۔ ہمیں اپنے اردگرد ثمر آور پودوں پہ نظر رکھنی چاہئے تاکہ ہم ان کے کانٹوں کے باوجود ان کی دلکش بناوٹ، پھلوں اور رنگوں کا فائدہ اٹھا سکیں۔آپ حیران ہونگے کہ وہ “ثمر” ہمارے ہاں چوبیس درھم سے لیکر اٹھاسی درھم فی کلو پرکلی پئیرز prickly pears کے نام سے بک رہی ہیں ۔ اور اس کا تیل کی چھوٹی شیشی ساڑھے تین سو درھم کی بک رہی ہے جبکہ پودوں کی قیمت دس درھم سے ہزاروں درھم ہے ۔ وہ قیمت قسم۔ رنگ اور خوبصورتی کی بنا پر ہوتی ہے.

قدرت تھیں جس باغ بناۓ جگ سنسار تمامی

رنگ برنگی بوٹے لاۓ کُجھ خاصی کُجھ عامی

ہکناں دے پھل مٹھے کیتے، پت اونہاں دے کوڑے

ہکناں دے پُھل کاری آون، نفعے پھلاں دے تھوڑے

انہیں عربی میں صبار اور انگریزی میں cactus  کہا جاتا ہے۔ حیرانگی کی بات تو عربی قاموص سے پتہ چلی کہ صبار کی معانی ہیں لمبے عرصہ تک  درد کو برداشت کرنے والا ۔

راولپنڈی گورنمنٹ بس اڈہ کی مسجد کے مخالف سڑک کے ایک کونے میں ایک آدمی ثمر نام کا پھل لوگوں کو چھیل کر مسالا لگا کر دیتا اور خوب پیسے بناتا۔ 

میں ان دنوں تعلیم کے سلسلے میں پنڈی میں مقیم تھا اور ہر جمعہ کو جہلم آیا کرتا تھا۔ اب چونکہ ثمر کا زائقہ زرا مختلف تھا اور اوپر سے بیچنے والا بتاتا کہ یہ پھل بلوچستان سے آتا ہے کہ کر مذید زائقہ اور رنگ بھر دیتا۔ ایک بار میں بغیر چھیلے ایک کلو ثمر لے آیا سوچا جہلم میں گھر والوں کو نیا پھل کھلاؤں گا۔ سارے راستے میں سوچتا رہا کہ اس کی پرزنٹیشن کیسے کروں گا اور گھر والوں کو ذائقہ کیسے لگے گا۔ 

ابھی پچھلے دنوں پودوں کی نرسری جانے کا اتفاق ہوا تو رنگ اور انواع دیکھ سبحان اللہ کہہ کر اللہ کی شان سوچتا رہا پھر میں گھر اور دفتر کے لئے کچھ مختلف رنگوں کے ثمر کے پودے لے لئے۔ لیکن جب میں ان پودوں کی چھوٹی بڑی اقسام دیکھ رہا تھا تو میرا دھیان انسانی ذندگی میں رشتوں کی طرف چلا گیا۔ 

کیونکہ ہر پودا  بظاہر توانا اور مضبوط دکھنے کے باوجود بڑے ہی کمزور انداز میں تنے اور شاخوں سے جڑا تھا۔ ہم بھی ایک دوسرے سے کچے دھاگوں کے رشتے سے جڑے ہوتے ہیں۔ یا ہماری بناوٹ میں جذبات اور سلوک کا نازک جوڑ ہوتا ہے جس کے ٹوٹنے کا ڈر رہتا ہے۔ انسان بھی بہت خوبصورت تخلیق ہے.

ایس عجائب باغےاندر آدم دا رُکھ لایا

معرفت دا میوہ دے کر واہ پھلدار بنایا

 اس کے ساتھ بھی”  انآ” اور “میں” کے کانٹے لگے ہوتے ہیں۔ تھُور کے کانٹے شاید اس کے نازک بدن کو تحفظ دیتے ہیں لیکن نباتات بے شک جاندار ہوتے ہیں مگر ان میں شعور اور حرکت نہیں ہوتی جبکہ انسان کے ساتھ معاملہ اور ہے وہ چاہئے جانے کے باوجود خود کو ناشکری میں سوچ کر حسد اور انآ کے کانٹے نکال لیتا ہے۔

بعض انسانوں کو اپنے رنگوں اور وجود کے ہونے کے فوائد کا ادراک نہیں رکھتا ہے اور کانٹے چبھونے لگتا ہے۔ نازک جوڑ والے تھُور کو اللہ ہمت دیتا ہے کہ وہ طوفان میں یکجا ہو کر بھی محفوظ رہتا ہے ۔ اس کی استقامت کا اجر رنگ برنگے خوبصورت پھولوں کی صورت عطا ہوتا ہے جو بعد میں”ثمر” کی صورت عطا ہوتا ہے۔ 

اس کی مقابلے میں انسان مشکل اور طوفان کی صورت میں اکثر تنہا ہونے لگتا ہے۔ اپنی توڑ پھوڑ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ لیکن تھُور کا پودا فطری طور پہ ثابت قدم اور بے رحم موسم میں صحرا میں بھی ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔ وہ ھوا سے  نمی کشید کرکے بھی ہرا اور  شکر گزار رہتا ہے۔ ایک تحقیق کی مطابق تھور کو بارانی علاقوں میں خشک سالی میں متبادل فصل کے طور پہ اپنایا جا رہا ہے۔ پھر اس پتوں سے خاصی مقدار پانی بھی میسر ہوتا ہے اور جانوروں میں چارے کی صورت بعض گیسوں کے سلسلہ میں بھی معاون ہے۔

اس کے مقابلے میں انسان جس کو حکم ہے صلہ رحمی کا  وہ تنہا ہو کر شکست و ریخت کا شکار ہونے لگتا ہے۔میرا یقین ہے کوئی بھی اپنے رشتہ کے درخت سے ٹہنی کی  طرح ٹوٹ کر زیادہ دیر ہرا اور زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسے چاہئے تحفظ کا سامان تعلیم, محبت ,صلہ رحمی کے پھولوں کی طرح اُگاۓ مگر تھُور کی چُبھن تو پیدا نہ کرے۔ کیونکہ تھُور کا نازک پودا موسم و حالات کے ستم سہہ کر بھی ہمیں کھانے کو “ثمر” دیتا ہے۔ جبکہ انسان اپنے ساتھ دوسروں کو برباد کرنے کا سوچتا ہے۔ 

خیر جب میری امی اللہ جنت بخشے (امین) نے “ثمر” لفافے سے نکالے تو فورا” بولیں یہ تو تھُور کا پھل ہے ۔ تو احساس ہوا کہ وہ تو ہمارے گاؤں کے رستے میں پھل پھول رہی تھی۔ لیکن ہم تھے  کبھی ان کی طرف دھیان نہیں دیا تھا کیونکہ اس کی افادیت سے نا آشنا تھے جیسے ہم زندگی میں بہت سارے اہم اور خوبصورت رشتوں سے ناآشنآ رہتے ہیں لیکن جب کوئی دوسرا ان کی قیمت لگاتا ہے یا امی جان کی طرح اہمیت اور اردگرد دوڑانے کا کہتا ہے تو شرمندگی کے ساتھ اپنی لاعلمی اور کوتاہ بینی کا بھی احساس ہوتا ہے۔  

ہمیں اپنے اردگر د ثمر آور پودوں اور رشتوں پہ نظر رکھنی چاہئے تاکہ ہم ان کے کانٹوں کے باوجود ان کی دلکش بناوٹ، پھلوں اور رنگوں کا فائدہ اٹھا سکیں۔ ویسے ہمیں شاید رشتوں کو ضرور پرائیس کرنا چاہئے تاکہ اہمیت مدنظر رہے۔رشتے کانٹوں  بھرےبھی ہوتے ہیں مگر اندر صبار یا تھور کی طرح ہی نرم بھی ہوتے ہیں . اچھے بندے کی طرح نرم ہوتےہیں۔

Mohammed Ifrahim Butt : Nov. 2020

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *