Kheyal Darya

A mound of thoughts

URDU

سوال

میں سوال اس لئے کرتا ہوں کہ ایک دوسرے کو فکری تحریک ملتی رہے۔

بچے جب چھوٹے تھے تو ایک پوری دیوار سفید پینٹ مار کر رنگ برنگے لکھنے کے چاک رکھ چھوڑے تھے۔ بچے ان پہ اپنی اپنی سوچ سے لکیریں مارتے، لکھتے نقش بناتے ہم شام کو اسے صاف کرکے اگلے دن کے لئے تیار کر دیتے۔

بنک میں ایک بنگالی نے رپورٹ کیا تو پتہ چلا اس نے اسلامک تعلیم حاصل کی تھی اس کی اردو، بنگالی، عربی اور انگلش اچھی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کچھ لکھتے بھی ہو تو اس نے منفی میں جواب دیا۔ میں نے حیرانگی میں اسے کہا اتنی زبانیں جان کر بھی ادبی سفیر نہ بننا زیادتی تھی۔
سکول کی زمانے سے محترم استاد منیر احمد خلیلی صاحب کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ وہ ہر طالب علم کو لکھنے کی تحریک دیتے رہتے ۔ حوصلہ افرائی کو سکول سے “کاوش “نام کا ماہانہ چھپتا جس میں نام آنے پہ چند روز ہم بھی سکول میں چھاتی چوڑی کرکے گھوم لیتے۔

اسی طرح میں بھی ہر روز اس کو موضوع دے کر گپ شپ کرنے لگا پھر اسے کہا کہ اب ان باتوں کو لکھ کر کم از کم بنگالی اخبارات میں چھپوانا شروع کرو۔ پھر اللہ کی کرنی کہ امارات سے نکل کر بنگلہ دیش میں اس کے مضامین چھپنے لگے۔ جوکہ ہماری روز مرہ کی مختلف موضوعات پہ گفتگو ہوتی تھی ہاں مگر ادبی حوالوں کو بھی پیش نظر رکھا جاتا تھا۔

چند مہینوں کے بعد عبدالسلام “ملُا۔ عبدالسلام” کے نام سے اتنا مشھور ہوا کہ روز مرہ کی محفلوں میں سپیکر کے طور پہ بلایا جانے لگا۔ اب عبدالسلام بہت خوش تھا اور مطالعہ کا شوق بھی لوٹ آیا تھا پھر خدمت بھی ہونے لگی تھی۔

میرا تعلق بڑے دوستوں اور سکالرز سے رہا وہ ہمیشہ اظہار کرنے ، بات کرنے یعنی صلاحتیوں کو عام کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے۔ وہ کہتے اپنے حصے کا کام کرتے رہو۔ یقین بعض اوقات انسان کو اپنی صلاحتیوں کا ادراک نہیں ہوتا اگر ہو بھی تو وہ کر نہیں پاتا کیونکہ ماحول نہیں ملتا۔

سمندر کنارے پارٹی چل رہی تھی تو میں اٹھ کر ٹی کافی سٹال پہ گیا تو وہاں شو کی انتظام کرنے والی “Flying Elephant” نام کی کمپنی کے آرگنائزر امریکی فلورنس سے سلام دعا ہوئی تو میں نے اسے مذاق میں کہا کہ اس کی آواز ریڈیو کی پرفیکٹ آواز تھی۔ جب وہ امریکہ سے آ کر FM ریڈیو کی مقبول ترین آواز تھا ساتھ ساتھ اان دنوں وہ دنیا کے مشھور تین ولاگرز میں شمار ہوتا تھا۔

اس کی ٹیم کے بعض لوگ ہالی وڈ کی فلموں اور دوسرے پراجیکٹس پہ کام کر چکے تھے۔ پھر کیا تھا دلچسپی اور تعارف کے باب کھلتے گئے اور فلورنس جو پانچ منٹ کے لئے آیا تھا تین بار بندہ بلانے آیا مگر وہ میرے ساتھ ہی تقریبا پچاس منٹ رہا۔ اس نے مجھے دعوت دی کہ فائیوسٹار ہوٹل میں ہفتہ وار پروگرام رکھ سٹیج پہ بیٹھ کر حاضرین کے سامنے ایسی ہی گفتگو کی جاۓ تو بہت سوں کا بھلا ہو سکتا ہے۔

میرے لئے اچھی افر تھی اور چونکہ میں دوبئی سے ۱۵۰ کلو میٹر دور مقیم تھا یا بڑے سٹیج کے خوف سے اس کے باوجود بار بار کہنے کے نا کر سکا جس کا دکھ بھی ہے۔ یہی وجہ اس کسک کو محسوس کر کے چاہتا ہوں موقعہ ضائع نہ کریں بلکہ اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔

آپ کو بتاتا چلوں کئی دوستوں نے مجھے لکھنے اور سوال کرنے کے حوالے سے بہت سارے منفی پیغامات بھی بھیجے مگر میں انہیں ہنس کر لکھتا رہتا ہوں۔ میں نے بنک کی سروس کے دوران بہت سارے نوجوانوں کو ڈائری لکھنے پہ لگا دیا تاکہ بندہ “ھولا” اور “فوکس” رہے۔

آپ بھی لکھیں کیونکہ خیالات حالات و مقامات و اوقات کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں۔ یہ آوارہ کبوتروں کی طرح ہوتے ہیں اگر آپ نے بیٹھنے کو تہہ نہ دی تو یہ کسی اور کی چھت پہ جاکر بیٹھ جائیں گے۔

محمد افراہیم بٹ- العین ۲۰ دسمبر ۲۰۲۱

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *