گھر میں بیٹھے یونہی فانی دنیا سے کوچ کرنے والے اپنے بڑوں کا زکر ہوا کہ وہ کس طرح اپنوں کو یاد کر کے روتے اور اپنی خواہشوں کا برملا اظہار کرتے کہ پہاڑ یعنی کشمیر جانا ہے۔
شومئی قسمت اس وقت حالات کبھی موافق نہ ہوۓ یا روزگار نے اتنا الجھاۓ رکھا کہ بہت سارے بزرگ سینوں میں جدائی کادرد لئے اس جہاں سے اللہ کے ہاں انتقال کر گئے۔ اللہ انہیں اپنی رحمت سے نوازے۔ امیں
انسان اپنی فطرت کے مطابق اپنوں کو گاہے گاہے یاد کرتے دعائیں دیتا ہے۔ اور اس کی کوشش ہوتی ہے بچھڑے ہوۓ رشتہ داروں سے پھر سے تجدید رسم و راہ کرے۔
سالوں پہلے جب نئی نئی گاڑی لی تو اسی محفل میں پروگرام بن گیا کہ کشمیر میں بسے اپنوں کو ملنے نکل پڑے۔ ہم کہاں صحراۓ عرب میں گاڑی چلانے والے پہاڑوں کے جبر سے ناآشا تھے۔ لیکن اباجان رح (سابقہ فوجی) ساتھ اگلی سیٹ پہ بیٹھے تھے ان سے پہاڑوں کے چشموں، چکنی مٹی اور ندی نالوں میں گاڑی چلانا سیکھی۔ سوچیں باپ پاس ہو تو بچے کا حوصلہ کس قدر بلند ہو جاتا ہے۔ لیکن ان رحمت اللہ علیہ کی رحلت کے بعد جب بھی پہاڑوں میں سفر کیا پہلے جیسےاعتماد سے نہ کیا۔
پہلے سفر میں جہاں باقی سب یہ دیکھ وہ دیکھ مناظر پہ سبحان اللہ پڑھ رہے ہوتے ہیں وہیں ہم ڈرائیونگ کرتے جیسے پہلی بار ٹیڑے میڑے رستوں پہ سوچ کر مسکراتے ہوۓ رستہ ڈھونڈ کر اللہ اکبر اور یااللہ خیر کے کلمات ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ کبھی اونچائی پہ پہنچ کر لگتاشاید رستہ ختم ہو گیا کبھی نیچے سے اور ڈرائیو کرتے لگتا آگے کیا ہو گا۔
گویا پہاڑوں کا سفر ایک تھِرل کی صورت ہوتا ہے آپ کو ہر لمحہ تیز دھڑکن بھی مزہ دیتا ہے کہ میں نے چوٹیاں سر کر لیں۔ جب ہم بڑوں کے نقشِ پا پہ چلتے ہوۓ آگے بڑھ رہے تھے تو ان کے ہی تذکرے ہو رہے تھے۔ ہم جہلم سے میرپور کشمیر کے علاقہ سے چڑھوئی کی طرف سے جا رہے تھے۔ جگہ جگہ رُک کر بہانے بہانے سے تصویریں بناتے جاتے۔ اللہ صحت دے چھوٹے بھائی عتیق الرحمن حالیہ مقیم مانچسٹر کو اس وقت بی ایس سی کا طالب علم تھا اس کا جغرافیہ اور باٹنی کا علمی لیکچر ہماری معلومات میں مسلسل اضافہ کر رہا تھا۔ پہاڑوں کی بناؤٹ، مٹی کے مختلف رنگ، پودوں کی قسمیں۔ کہاں کون سی معدنیات ممکن ہو سکتی ہیں سب مسلسل ایک بریفنگ کی صورت چل رہا تھا ہمیں خوشی ہو رہی تھی کہ اس کی معلومات تجسس بڑھاتے ہوۓ اپنوں کی مٹی اور خوشبو سے بھی محبت بڑھا رہی تھی۔
ہم ایک بستی کے چھوٹے سے بازار کے پاس سے گزر رہے تھے کہ اباجی نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا۔ کہنے لگے اماں مرحومہ رح اس بستی کا بھی باتوں میں زکر کرتی تھیں۔ ہم نے چند نوجوانوں کو بلا کر دریافت کیا تو کشمیر کے اندر انہوں نے کہا کہ “ہاں کشمیری بٹ فیملی کے دو گھر ہیں۔” یہ جملہ آج بھی میری سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ ہمیں ملانے کے لئے لیکر گئے۔ بتاتا چلوں کہ وہ علاقہ ازلی دشمن کی پہاڑ کی اونچائی سے گنوں کی رینج میں تھالہذا ہمیں احتیاط اور اوٹ کا بولا گیا۔
جیسے ہی ہم نے دروازے پہ دستک دی تو مردوں کی غیر موجودگی میں پردے سے اس گھر کی بہو ، ساس اور دو چھوٹے بچےملے۔ اباجی کو دیکھ کر انہوں نے والہانہ خوشی کا اظہار کیا جبکہ ہمارے لئے وہ بالکل حیرانگی والا تعارف تھا۔
گھر کی بہو نے اباجی سے کہا کہ اگر آپ جہلم سے آۓ ہیں تو ضرور عبدالرحمن بٹ ہو نگے یا محمد زمان بٹ! پھر اس نے گھر کے اندر آنے کا کہتے ہوۓ خاندان کے بڑوں کا زکر شروع کر دیا۔ ہم تو بس ہکہ بکہ رہ گئے کہ ہم نے کبھی اس تعلق کو کبھی اس قدر سوچا بھی نہ تھا اور وہ سب ہمارے گھر والوں کے ناموں تک سے بھی واقف تھے۔ میری بیگم بھی کشمیری خاندان سے ہے گورے چٹے لال گالوں والے بچوں کو دیکھ کر ہنستے ہوۓ کہنے لگی “ یہ ہوۓ ناں اصلی بٹ”! لیکن اس دن موسم اور بارڈر کی صورت حال کی وجہ سے ہم وہیں سے واپس لوٹ آے۔
میرا ایک شعر شاید حالاتِ زندگی کی ترجمانی کرے گا۔
الجھےہیں کارِجہاں میں ایسے افری
یادِ خدارہی نہ ہی وصالِ یار ہوا
تقریبا ۲۹ سال کے بعد پھر جولائی ۲۰۲۱ میں پہاڑ جانے کا موقعہ ملا کیونکہ اتفاق سے ابوظہبی میں بنک کی طرف سے چند کمپنیوں کے معائنہ پہ ان کے آفیشلز سے مل رہا تھا کہ پاکستانی کمپنی میں جانا ہوا تو چاۓ کے دور کے دوران ان کا میر پور کا ایڈریس دیکھ کر ازراہ مذاق کہہ دیا کہ ہمارے بڑے بھی کشمیر کے مختلف علاقوں سے ھجرت کرکے پنجاب میں آ بسے تھے۔ انہوں نے فورا” بڑے پیارے بھائی صابر صاحب آف سندھاڑ سے فون پہ بات کرا دی۔ (یہ وہی صاحب ہیں بعد میں جن کے گھر کی چھت پہ لگی لوہے کی جالیوں سے ابھینندن چاۓ والے کا جہاز ٹکرا کر گرا تھا) پھر کیا تھا مجھے بھی دو نام یاد تھے جب انہیں بتاۓ تو انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوۓ رشتہ دار ہونے کی خوشخبری سنا دی۔
انسانوں کے رشتے چاہئے کتنے ہی قریب یا دور ہوں ملنے کے لئے وقت اور اسباب چاہئے۔ صابر صاحب سے تقریبا ہر روز پیغام رسانی جاری رہتی ہے سواۓ ملاقات کے۔ وجہ ان کی زمہ داری اور جزیروں پہ ڈیوٹی ہونا ہے۔ جب پاکستان گیا تو وہ ابوظہبی میں تھے جب وہ پاکستان پہنچے تو میں یہاں چلا آیا۔ جبھی تو صوفی تبسم نے غالب کو پنجابی میں سوچتے ہوۓ کہا تھا
“بھاویں ہجر تے بھاویں وصال ہوۓ
وکھو وکھ دونہاں دیاں لذتاں نیں “
میں نے سوچا جو پڑھا اور سنا کشمیراور اس میں بسی قوموں کے متعلق وہ آپ سب سے شیئر کرنے کی کوشش کروں۔ معذرت کے ساتھ جیسا انگلش میں کہتے ہیں “خیر کا کام اپنے گھر سے شروع ہوتا ہے” لہذا میں پہلا تذکرہ “بٹ” فیملی سےکروں گا
محمد افراہیم بٹ۔ العین ۲۴ نومبر ۲۰۲۱
![]()
