Kheyal Darya

A mound of thoughts

Poem

اُداس نسلوں کی خاموش صدا

خیال

سمندروں میں ڈوبتے نوجوانوں کے متعلق انٹرویوز سُننے کے بعد اُن کی آخری صداؤں کا منظر

اُداس نسلوں کی خاموش صدا

فریب کی گرد میں پلتی رہیں

یہ اُداس نسلیں، جو جلتی رہیں

پاگل خانے کی خامشی میں قید

نظریں جمائے، سوالوں میں گم

چہروں پہ آنکھیں جماتی ہیں

شاید انسان ڈھونڈتی ہیں

اپنے اندر کوئی راز چھپائے

کوئی صدا دبی ہو جیسے

بچپن میں کیوں بوڑھے ہو گئے؟

رنگین سپنے کہاں کھو گئے؟

زلزلے سے گِرے محل کی طرح

اندر کی ویرانی دکھانا چاہتی ہیں

کرب کے لمحوں میں کیا بیتا؟

کس دکھ نے دل کو چیر دیا؟

کوئی کہانی، کوئی فسانہ

یہ خامشی شاید سنانا چاہتی ہے!

(افری)

Loading

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *