“رنگوں سے خالی دنیا”
قسط 46
یہ کہانی میں نے یوٹیوب پر ایک بچے کی اس بیماری کے بعد پہلی دفعہ عینک لگانے کے بعد اپنے والدین کو دیکھ کر خوش ہوتا دیکھ کر لکھی، اس سوچ کے ساتھ کہ اگر غور کریں تو ہماری زندگیاں “ایکرومیٹوپشیا” کے مرض میں گزر جاتی ہیں اور ہم بے قدرے مر جاتے ہیں۔
اگر موقع ملے تو ہیلن کیلر کے “تھری ڈیز ٹو سی،دیکھنے کے لئے تین دن“ ضرور پڑھیں
گاؤں کے سرسبز میدانوں اور نیلے آسمان تلے، ایک چھوٹے سے مکان میں حسن نامی لڑکا رہتا تھا۔ حسن اپنی زندگی میں کبھی رنگ نہیں دیکھ پایا تھا۔ دنیا اس کے لیے صرف سیاہ، سفید، اور سرمئی رنگوں کا امتزاج تھی۔ وہ “ایکرومیٹوپشیا” کا شکار تھا، اور اس کی یہ معذوری اسے دنیا کے رنگوں کی خوبصورتی سے محروم رکھتی تھی۔
حسن کا بچپن عام بچوں کی طرح تھا، لیکن جب وہ اسکول گیا اور دیگر بچوں نے رنگوں کے بارے میں بات کرنا شروع کیا، تو وہ خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتا۔ جب بچے کہانیوں میں سورج کو زرد، درختوں کو سبز، اور پھولوں کو سرخ کہہ کر بیان کرتے، تو حسن ان کے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کرتا، لیکن رنگ اس کے لیے محض خیالی تھے۔
ایک دن، اس کی چھوٹی بہن جس کو پہلے بھی محسوس ہوتا تھا لیکن گھر والے اس کی دلجوئی کے لئے ظاہر نہیں کرتے تھے۔ لیکن عائشہحسن سے چھوٹی ہونے کے باوجود بھائی کی مدد کا سوچتی تھی وہ خوبصورت تھی، اور اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک مسکراہٹ رہتی تھی۔
عائشہ نے کچھ سوچ کر پینٹنگ شروع کر دی اور ہر وقت اپنے برش سے نئے رنگوں کی دنیا تخلیق کرتی۔ وہ اکثر بھائی سے راۓ مانگتی کیونکہ اس نے ماں سے سُنا تھا کہ حسن رنگ نہیں دیکھ سکتا۔ یہ بات عائشہ کے لیے پریشان کن تھی۔
عائشہ نے حسن سے کہا، “تم نے کبھی سورج کے ڈھلنے کا منظر محسوس کیا ہے؟ اس لئے کہ تم قدرت کے مظاہر ک مشاہدہ کرنے باہر ہی نہیں جاتے
حسن نے سر ہلایا اور کہا، “میں روشنی اور اندھیرے کا فرق جانتا ہوں، لیکن رنگوں کی خوشبو میرے لیے ان جملوں سے آگے نہیں بڑھتی۔”
عائشہ نے سوچا اور مشن بنا لیا کہ وہ حسن کو اس کی دنیا میں رنگوں کا احساس دلائے گی۔ اگلے دن، وہ حسن کو ایک کھیت میں لے گئی۔ وہاں بہار کے رنگین پھول کھلے ہوئے تھے۔ عائشہ نے حسن سے کہا، “آنکھیں بند کرو اور محسوس کرو۔ یہ ہوا جو تمہارے چہرے کو چھو رہی ہے، یہ پیلے رنگ کی خوشبو ہے۔ یہ خوشبو جو تمہیں تازگی کا احساس دلا رہی ہے، یہ ہرے رنگ کی خوشبو ہے۔ اور یہ نرمی جو تمہارے اندر سکون پیدا کر رہی ہے، یہ نیلے رنگ کی روشنی ہے۔”
حسن نے آنکھیں بند کیے ہوئے ان جذبات کو محسوس کیا۔ وہ جان گیا کہ رنگ صرف دیکھنے کا نہیں، بلکہ محسوس کرنے کا نام بھی ہے۔ عائشہ کے الفاظ نے اس کی دنیا میں ایک نئی روشنی بھر دی۔
دن گزرتے گئے، اور عائشہ نے حسن کو اپنے پینٹنگ کے ذریعے رنگوں کا تصور سکھانا شروع کیا۔ وہ کہتی، “یہ میرا برش ہے، جو تمہارے لیے زندگی کے وہ رنگ تخلیق کرے گا، جو تمہارے دل میں زندہ ہیں۔”
حسن نے عائشہ کی مدد سے اپنی دنیا میں روشنی اور امید کے رنگ بھرنا شروع کر دیے۔
ایک دن حسن نے ہمت کر کے عائشہ سے کہا، “میں تمہیں رنگوں سے نہیں دیکھ سکتا، لیکن تمہارے لہجے کی مٹھاس میرے لیے سرخ گلاب کی خوشبو جیسی ہے، اور تمہاری موجودگی میرے لیے سکون کا نیلا آسمان ہے۔”
عائشہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، حسن بھائی! “حُسن، محبت وہ جذبہ ہے جو رنگوں کی محتاج نہیں۔ تمہاری دنیا میں رنگ میرے برش سے نہیں، تمہارے دل کی گہرائیوں سے آتے ہیں۔”
اس دن حسن نے جان لیا کہ زندگی میں حقیقی خوشی ظاہری رنگوں سے نہیں، بلکہ محبت، احساس، اور ہمدردی کے رنگوں سے آتی ہے۔ اور وہ جان گیا کہ اس کی دنیا، بہن عائشہ کی محبت کے ساتھ، مکمل ہے۔
شکریہ
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ ۔۔۔ الامارات
5/2/2025
![]()
