(قدیم لوگوں کے قصے)
قسط 43/8
جناب محمد حذیفہ صاحب نے لاھور سے لکھ بھیجا کہ میں جو معاشرتی تبدیلی اور انقلاب آنے کی وجوہات کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو اس کا حل بھی لکھوں ،
سوچا سوال حق بجانب ہے مگر ابھی سلسلہ جاری ہے لیکن پھر بھی درمیان میں ابھی تک کے صاحبانِ عقل و دانش کے نظریات کی ایک سمری (مختصر بیانیہ ) لکھ دوں تاکہ بات کھل کر سمجھ آتی رہے!
کہا جاتا ہے قیامت برپا ہوگی تو بظاہر ویران اور اُجاڑ بستیوں کے چپے چپے سے لوگ اُٹھیں گے۔ کیونکہ کبھی وہ بھی بستیاں آباد تھیں، موہنجوداڑو، ہڑپہ، اکال کڑھ اور دُنیا کے کونے کونے سے خبریں ملتی ہیں کہ پرانی بستیوں کے آثار ملے ہیں۔ گویا آج کی آباد بستیاں بھی کبھی آنے والوں کے لئے سوال ہوں گی!
ایک بات کہ ہمارے عہد میں پھر بھی لوگوں کے قد کاٹھ ویسے تو نہیں جو پہلی مردہ قوموں کے تھے جن کے افراد کجھوروں کے درختوں کو ہاتھ سے اُکھاڑ لیا کرتے تھے، لمبائی ستر فٹ تک بتائی جاتی ہے ۔ لیکن یہ بھی خبر ہوئی کہ قیامت آتے آتے لوگوں کے قد ستر فٹ سے تین فٹ تک جا پہنچیں گے۔
جس شہر میں میں مقیم ہوں محمد یوسف بھائی نے بتایا کہ 1972 کی بارش سے ایک جگہ سے دو قبروں سے ڈھانچے ملے، بتانے لگے ان کے سر کے برابر ان کے لاشوں کے گھٹنوں کی موٹائی، کلائی برابر پیروں کا سائز تھا نہایت طویل قامت! ہنس کر کہنے لگے وہ چھ فٹ قد پر ناز کیا کرتے تھے!
اب دیکھیں تو یوٹیوب پر “تڑیاں لگاتے، للکارے مارتے اور بدمعاشی کے ڈائیلاگ بولتے “چار فٹ کے نوجوان تین فٹ کی مونچھیں رکھ کر ویڈیو بنا کر لوگوں کو دیکھاتے ہیں۔
یونس ویئس مرحوم رح ایک ڈائیلاگ بولا کرتے تھے، “ رہے اُو وی نہی ، رہنے اے وی نہی” یعنی “رہے وہ بھی نہیں (تکبر و طاقت والے) اور رہنے اب یہ والے بھی نہیں !“
خیر اگر زکر کریں ان تباہ شدہ بستیوں اور مردہ ہستیوں کا تو ایک عبرت کی داستان بنتی ہے! اُن سب کو ذہن میں سوچ کر لکھنے بیٹھ گیا ہوں ۔
کسی زمانے میں ایک خوبصورت بستی تھی جس کا نام “انمول نگر” تھا۔ یہ بستی اپنی زرخیز زمین، پرسکون فضا، اور خوشحال زندگی کے لیے مشہور تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، اس بستی میں ایسی برائیاں پروان چڑھ گئیں جنہوں نے اس کے سماجی، اخلاقی، اور روحانی نظام کو تباہ کر دیا۔
انمول نگر کے زوال کی کئی وجوہات تھیں، جنہیں مختلف فلسفیوں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھانے کو کوشش کر رہا ہوں۔
۱. اخلاقی انحطاط اور خدائی نظام یا دین
سے دوری
بستی کے لوگ پہلے دیندار اور اصول پسند تھے، لیکن وقت کے ساتھ وہ دین سے دور ہو گئے۔ جھوٹ، دھوکہ دہی، سود، کم تولنا ، اوروان کی جائیدادوں پر قبضہ، طاقت وروں کا زور اور رشوت ان کے روزمرہ کے معاملات کا حصہ بن گئے۔
امام غزالی کے بقول، یہ
وہی اخلاقی زوال تھا جو بستی کے افراد کو اللہ سے دور لے گیا۔
۲۔ غیر مساوی دولت کی تقسیم بھی وجہ بنی،
ارسطو کے بیان کے مطابق، انمول نگر میں دولت چند افراد کے ہاتھوں میں مرکوز ہو گئی۔ امیر افراد محلوں میں رہتے تھے، اور غریب زمین کے جھونپڑوں میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ یہ معاشرتی تقسیم لوگوں میں نفرت اور بے چینی کا باعث بنی۔
۳. عدل و انصاف کی کمی
بستی کے حکمران ظالم ہو گئے تھے۔ عدالتیں انصاف کے بجائے رشوت پر چلتی تھیں۔ ظالم کو آزادی ملتی اور مظلوم انصاف کے لیے روتا رہتا۔ یہ ظلم بغاوت کے بیج بوتا گیا۔
۴. علماء اور حکمرانوں کا بگاڑ
علماء اور حکمران دونوں نے اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی۔ علماء نے دین کو دنیاوی مفادات کے لیے استعمال کیا، اور حکمران عوام کی فلاح و بہبود کو بھلا کر عیش و عشرت میں مشغول ہو گئے۔فتوے پیسوں اور عہدوں کے بدلے جاری ہونے لگے!
امام غزالی کے مطابق، جب علماء اور حکمران بگڑ جائیں تو معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔
۵. تعلیم کی تقسیم اور اس کا زوال
تعلیم سے روحانیت ختم ہو گئی تھی۔ بچوں کو دنیاوی لالچ اور خودغرضی سکھائی جاتی۔ انسانیت، اخلاقیات، اور تقویٰ کی جگہ مادہ پرستی نے لے لی۔
۶. نفسانی خواہشات کی پیروی عام ہو گئی !
لوگ اپنی خواہشات کے غلام بن گئے تھے۔ حلال و حرام کی تمیز ختم ہو گئی تھی، اور ظلم، ناانصافی، اور فحاشی عام ہو چکی تھی۔
۷۔ روایات اور اقدار کا زوال
بستی کی روایات اور
اقدار بگڑ چکی تھیں۔ لوگ اپنے بزرگوں اور دین کی تعلیمات کو بھلا کر مغربی تقلید میں لگ گئے تھے، جس سے بستی کا روحانی ڈھانچہ تباہ ہو گیا۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق، جب ایک بستی ظلم، ناانصافی، اور گناہوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور اصلاح کی کوشش نہیں کرتی اور لوگ الأمر بالمعروف والنهي عن” المنكر” کی ذمہ داری کو نہیں نبھاتی تو اللہ تعالیٰ اسے تباہ کر دیتا ہے۔ قرآن میں کئی بستیوں کی تباہی کا ذکر ملتا ہے، جن کی حالت انمول نگر سے ملتی جلتی تھی:
قومِ نوح (علیہ السلام)
یہ قوم شرک، ظلم، اور اخلاقی انحطاط میں مبتلا تھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا، لیکن وہ باز نہ آئے، اور اللہ نے ان پر طوفان بھیج کر انہیں تباہ کر دیا۔
قومِ عاد
قومِ عاد طاقتور اور خوشحال تھی لیکن اللہ کی نافرمان بن گئی۔ وہ ظلم، تکبر، اور انکارِ حق میں مبتلا تھی۔ اللہ نے تیز آندھی بھیج کر انہیں نیست و نابود کر دیا۔
قومِ ثمود
• یہ قوم بھی اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے اور ظلم کرنے میں مشہور تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا، لیکن انہوں نے نافرمانی کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ زلزلے نے ان کی بستی کو مٹا دیا۔
قومِ لوط (علیہ السلام)
قومِ لوط اخلاقی پستی اور بے حیائی میں مبتلا تھی۔ اللہ نے ان پر پتھروں کی بارش کر کے ان کی بستی کو الٹ دیا۔
انمول نگر بھی انہی اقوام کی طرح اپنے اعمال کی وجہ سے تباہ ہو گئی۔ بستی کے لوگوں نے اصلاح کی طرف رجوع نہیں کیا اور اپنے نفس اور شیطان کی پیروی میں لگے رہے۔ ایک دن شدید طوفان آیا، جس نے پوری بستی کو مٹا دیا۔ صرف چند لوگ جو نیک تھے اور اللہ سے ڈرتے تھے، وہ بچا لیے گئے۔
دُنیا سمیت ہمارے ہاں بھی زلزلے، سونامی، سیلاب اور آگ لگنے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں منبہ کے طور پر جو ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اللہ کا نظام عدل پر مبنی ہے۔ جب کوئی بستی یا قوم عدل، انصاف، اور اخلاقیات کو ترک کر کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتی ہے، تو وہ اپنی تباہی خود لکھ دیتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں ان برائیوں سے بچنا چاہیے اور انبیا اور اولیاء کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہیے تاکہ ہماری بستیوں پر اللہ کی رحمت قائم رہے۔
شکریہ ۔۔۔۔۔
دُعاؤں کا طالب: محمد افراہیم بٹ ۔۔۔ الامارات
5/2/2025
![]()
